خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 180 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 180

خطبات مسرور جلد 12 180 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 21 مارچ 2014 ء لیا۔ہر ایک تیر جو مجھے مارا گیا اُس نے وہی تیر دشمنوں کی طرف لوٹا دیا۔میں بے کس تھا اس نے مجھے پناہ دی۔میں اکیلا تھا اُس نے مجھے اپنے دامن میں لے لیا۔میں کچھ بھی چیز نہ تھا مجھے اس نے عزت کے ساتھ شہرت دی اور لاکھوں انسانوں کو میرا ارادت مند کر دیا۔پھر وہ اُس مقدس وحی میں فرماتا ہے کہ جب میری مدد تمہیں پہنچے گی اور میرے منہ کی باتیں پوری ہو جائیں گی یعنی خلق اللہ کار جوع ہو جائے گا اور مالی نصرتیں ظہور میں آئیں گی تب منکروں کو کہا جائے گا کہ دیکھو کیا وہ باتیں پوری نہیں ہو گئیں جن کے بارے میں تم جلدی کرتے تھے۔چنانچہ آج وہ سب باتیں پوری ہو گئیں۔اس بات کے بیان کرنے کی حاجت نہیں کہ خدا نے اپنے عہد کو یاد کر کے لاکھوں انسانوں کو میری طرف رجوع دے دیا اور وہ مالی نصرتیں کیں جو کسی کے خواب و خیال میں نہ تھیں۔پس اے مخالفو! خدا تم پر رحم کرے اور تمہاری آنکھیں کھولے۔ذرا سوچو کہ کیا یہ انسانی مکر ہو سکتے ہیں۔یہ وعدے تو براہین احمدیہ کی تصنیف کے زمانے میں کئے گئے تھے جبکہ قوم کے سامنے ان کا ذکر کرنا بھی ہنسی کے لائق تھا اور میری حیثیت کا اس قدر بھی وزن نہ تھا جیسا کہ رائی کے دانہ کا وزن ہوتا ہے۔تم میں سے کون ہے کہ جو مجھے اس بیان میں ملزم کر سکتا ہے۔تم میں سے کون ہے کہ یہ ثابت کر سکتا ہے کہ اس وقت بھی ان ہزار ہا لوگوں میں سے کوئی میری طرف رجوع رکھتا تھا۔میں تو براہین احمدیہ کے چھپنے کے وقت ایسا گمنام شخص تھا کہ امرتسر میں ایک پادری کے مطبع میں جس کا نام رجب علی تھا میری کتاب براہین احمد یہ چھپتی تھی اور میں اُس کے پروف دیکھنے کے لئے اور کتاب کے چھپوانے کیلئے اکیلا امرتسر جاتا اور اکیلا واپس آتا تھا اور کوئی مجھے آتے جاتے نہ پوچھتا کہ تو کون ہے اور نہ مجھ سے کسی کو تعارف تھا اور نہ میں کوئی حیثیت قابل تعظیم رکھتا تھا۔میری اس حالت کے قادیان کے آریہ بھی گواہ ہیں جن میں سے ایک شخص شرمیت نام اب تک قادیان میں موجود ہے جو بعض دفعہ میرے ساتھ امرتسر میں پادری رجب علی کے پاس مطبع میں گیا تھا جس کے مطبع میں میری کتاب براہین احمدیہ چھپتی تھی اور تمام یہ پیشگوئیاں اس کا کا تب لکھتا تھا۔اور وہ پادری خود حیرانی سے پیشگوئیوں کو پڑھ کر باتیں کرتا تھا کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ایک ایسے معمولی انسان کی طرف ایک دنیا کا رجوع ہو جائیگا پر چونکہ وہ باتیں خدا کی طرف سے تھیں میری نہیں تھیں اس لئے وہ اپنے وقت میں پوری ہو گئیں اور پوری ہو رہی رہیں۔ایک وقت میں انسانی آنکھ نے اُن سے تعجب کیا۔اور دوسرے وقت میں دیکھ بھی لیا۔( برا بین احمدیہ حصہ پنجم ، روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 79-80) اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے اب تو بڑی شان سے پوری ہو رہی ہیں۔اور جیسا کہ میں نے پہلے بھی۔