خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 178 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 178

خطبات مسرور جلد 12 178 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 21 مارچ 2014 ء اس بارہ میں خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ الہام ہوا تھا۔كَلَامُ أُفْصِحَتْ مِنْ لَّدُنْ رَبِّ کریم۔اور جو میں نے اب تک عربی میں کتا نہیں بنائی ہیں جن میں سے بعض نثر میں ہیں اور بعض نظم میں۔جس کی نظیر علماء مخالف پیش نہیں کر سکے ان کی تفصیل یہ ہے:۔رسالہ ملحقہ انجام آتھم صفحہ 73 سے صفحہ 282 تک (عربی میں ہے التبلیغ ملحقہ آئینہ کمالات اسلام۔کرامات الصادقین - حمامة البشری۔سیرت الا بدال۔نور الحق حصہ اول - نور الحق حصہ دوم تحفہ بغداد۔اعجاز امسیح۔اتمام الحجة - حجۃ اللہ۔سر الخلافۃ۔مواهب الرحمن۔اعجاز احمدی۔خطبہ الہامیہ۔الہدی۔علامات المقر بین ملحقہ تذکرۃ الشہادتین۔اور وہ کتابیں جو عربی میں تالیف ہو چکی ہیں مگر ابھی شائع نہیں ہوئیں یہ ہیں۔ترغیب المؤمنین۔حجتہ النور۔نجم الہدی۔“ (حقیقة الوحی، روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 235۔حاشیہ) سیہ اس وقت کی باتیں ہیں جب آپ نے یہ پیشگوئی فرمائی تھی کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے بتایا ہے اور پھر اس کے بعد یہ کتا بیں بھی لکھیں۔اور ان کتابوں کی فصاحت و بلاغت کا اعتراف تو آج بھی، اس زمانے میں بھی عرب بھی کرتے ہیں جیسا کہ میں گزشتہ چند خطبہ پہلے بعض حوالوں سے اس کا ذکر بھی کر چکا ہوں۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : ایک دفعہ ایک ہند و صاحب قادیان میں میرے پاس آئے جن کا نام یاد نہیں رہا۔اور کہا کہ میں ایک مذہبی جلسہ کرنا چاہتا ہوں آپ بھی اپنے مذہب کی خوبیوں کے متعلق کچھ مضمون لکھیں تا اس جلسہ میں پڑھا جائے۔میں نے عذر کیا پر اس نے بہت اصرار سے کہا کہ آپ ضرور لکھیں۔چونکہ میں جانتا ہوں کہ میں اپنی ذاتی طاقت سے کچھ بھی نہیں کر سکتا بلکہ مجھ میں کوئی طاقت نہیں۔میں بغیر خدا کے بلائے بول نہیں سکتا اور بغیر اس کے دکھانے کے کچھ دیکھ نہیں سکتا اس لئے میں نے جناب الہی میں دعا کی کہ وہ مجھے ایسے مضمون کا القا کرے جو اس مجمع کی تمام تقریروں پر غالب رہے۔میں نے دعا کے بعد دیکھا کہ ایک قوت میرے اندر پھونک دی گئی ہے۔میں نے اس آسمانی قوت کی ایک حرکت اپنے اندر محسوس کی اور میرے دوست جو اس وقت حاضر تھے جانتے ہیں کہ میں نے اس مضمون کا کوئی مسودہ نہیں لکھا۔جو کچھ لکھا صرف قلم برداشتہ لکھا تھا اور ایسی تیزی اور جلدی سے میں لکھتا جاتا تھا کہ نقل کرنے والے کے لئے مشکل ہو گیا کہ اس قدر جلدی اس کی نقل لکھے۔جب میں مضمون ختم کر چکا تو خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ الہام ہوا کہ مضمون بالا رہا۔خلاصہ کلام یہ کہ جب وہ مضمون اس مجمع میں پڑھا گیا تو اس کے پڑھنے کے وقت سامعین