خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 159 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 159

خطبات مسرور جلد 12 159 جب تک خدا تعالیٰ کی مدد ساتھ نہ ہو ہر گز رہائی نہیں ہوتی۔خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 14 مارچ 2014 ء ( ملفوظات جلد 7 صفحہ نمبر 123-122 ) پھر اس بات کو مزید کھولتے ہوئے کہ گناہوں سے بچنا بغیر معرفت الہی کے ممکن نہیں ہے۔آپ فرماتے ہیں کہ : یقیناً یا درکھو کہ گنا ہوں سے بچنے کی توفیق اس وقت مل سکتی ہے جب انسان پورے طور پر اللہ تعالیٰ پر ایمان لاوے۔یہی بڑا مقصد انسانی زندگی کا ہے کہ گناہ کے پنجہ سے نجات پالے۔دیکھو ایک سانپ جو خوشنما معلوم ہوتا ہے بچہ تو اس کو ہاتھ میں پکڑنے کی خواہش کر سکتا ہے اور ہاتھ بھی ڈال سکتا ہے لیکن ایک عظمند جو جانتا ہے کہ سانپ کاٹ کھائے گا اور ہلاک کر دے گا وہ کبھی جرات نہیں کرے گا کہ اس کی طرف لیکے بلکہ اگر معلوم ہو جاوے کہ کسی مکان میں سانپ ہے تو اس میں بھی داخل نہیں ہوگا۔ایسا ہی زہر کو جو ہلاک کرنے والی چیز سمجھتا ہے تو اس کے کھانے پر وہ دلیر نہیں ہو گا۔پس اسی طرح پر جب تک گناہ کو خطرناک زہر یقین نہ کر لے اس سے بچ نہیں سکتا۔یہ یقین معرفت کے بڑوں پیدا نہیں ہو سکتا۔6 ( جب تک معرفت نہ ہو اس وقت تک یہ یقین پیدا نہیں ہو سکتا۔یعنی انسان کو یہ پتا ہے،معرفت ہے، اس کا علم ہے کہ زہر بھی خطرناک ہے، سانپ بھی خطرناک ہے تبھی ان سے بچتا ہے۔فرمایا کہ پھر وہ کیا بات ہے کہ انسان گناہوں پر اس قدر دلیر ہو جاتا ہے باوجود یکہ وہ خدا تعالیٰ پر ایمان لاتا ہے اور گناہ کو گناہ بھی سمجھتا ہے۔اس کی وجہ بجز اس کے اور کوئی نہیں کہ وہ معرفت اور بصیرت نہیں رکھتا جو گناہ سوز فطرت پیدا کرتی ہے۔اگر یہ بات پیدا نہیں ہوتی تو پھر اقرار کرنا پڑے گا کہ معاذ اللہ اسلام اپنے اصلی مقصد سے خالی ہے لیکن میں کہتا ہوں کہ ایسا نہیں۔یہ مقصد اسلام ہی کامل طور پر پورا کرتا ہے اور اس کا ایک ہی ذریعہ ہے مکالمات و مخاطبات الہیہ۔کیونکہ اسی سے اللہ تعالیٰ کی ہستی پر کامل یقین پیدا ہوتا ہے اور اسی سے معلوم ہوتا ہے کہ فی الحقیقت اللہ تعالی گناہ سے بیزار ہے اور وہ سزا دیتا ہے۔گناہ ایک زہر ہے جو اول صغیرہ سے شروع ہوتا ہے اور پھر کبیرہ ہو جاتا ہے اور انجام کار کفر تک پہنچادیتا ہے۔لیکچرلدھیانہ، روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 287) پھر گناہوں سے رکنے کے لئے معرفت کی اہمیت کو ایک جگہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یوں بیان فرمایا ہے۔فرماتے ہیں کہ: معرفت بھی ایک شے ہے جو کہ گناہ سے انسان کو روکتی ہے جیسے جو شخص سم الفار، سانپ اور شیر کو