خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 160
خطبات مسرور جلد 12 160 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 14 مارچ 2014 ء ہلاک کرنے والا جانتا ہے تو وہ ان کے نزدیک نہیں جاتا۔( یعنی ان چیزوں کے بارے میں علم ہے کہ یہ انسان کو مار سکتے ہیں ، ہلاک کر سکتے ہیں اس لئے وہ ان کے نزدیک نہیں جاتا۔'' ایسے جب تم کو معرفت ہو گی تو تم گناہ کے نز دیک نہ پھٹکو گے۔اس کے لیے ضروری ہے کہ یقین بڑھاؤ اور وہ دعا سے بڑھے گا اور نماز خوددعا ہے۔نماز کو جس قدر سنوار کر ادا کرو گے اسی قدر گناہوں سے رہائی پاتے جاؤ گے۔معرفت صرف قول سے حاصل نہیں ہو سکتی۔بڑے بڑے حکیموں نے خدا کو اس لیے چھوڑ دیا کہ ان کی نظر مصنوعات پر رہی اور دعا کی طرف توجہ نہ کی جیسا کہ ہم نے براہین میں ذکر کیا ہے۔“ اس بارے میں براہین احمدیہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کافی تفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔فرماتے ہیں: مصنوعات سے تو انسان کو ایک صانع کے وجود کی ضرورت ثابت ہوتی ہے کہ ایک فاعل ہونا چاہئے لیکن یہ نہیں ثابت ہوتا کہ وہ ” ہے“ بھی۔”ہونا چاہئے اور شئے ہے اور ” ہے اور شئے ہے۔اس ” ہے کا علم سوائے دعا کے نہیں حاصل ہوتا۔(اللہ تعالیٰ کی موجودگی کا علم دعا سے حاصل ہوتا ہے۔عقل سے کام لینے والے ” ہے“ کے علم کو نہیں پاسکتے۔“ (اگر صرف عقل سے کام لینا ہے تو وہ ” ہونا چاہئے“ اور ” ہے“ کے فرق کو محسوس نہیں کر سکتے ” ہے“ کے علم کو پانہیں سکتے۔اسی لیے ہے (یعنی یہ جو ایک محاورہ ہے ) ” کہ خدا را بخدا تواں شناخت۔( کہ خدا کو خدا تعالیٰ کے ذریعہ ہی پہچانا جاتا ہے۔) لا تُدْرِكُهُ الْأَبْصَارُ کے بھی یہی معنی ہیں کہ وہ صرف عقلوں کے ذریعہ سے شناخت نہیں کیا جا سکتا بلکہ خود جو ذریعے اس نے بتلائے ہیں ان سے ہی اپنے وجود کو شناخت کرواتا ہے اور اس امر کے لیے اهدِنَا الصِّراط المُستَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمتَ عَلَيْهِمْ (الفاتحه : 6) جیسی اور کوئی دعا نہیں ہے۔( ملفوظات جلد 6 صفحہ 368) پھر حقیقی تو بہ کی وضاحت کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں کہ : جو خدا کی تلاش میں استقلال سے لگتا ہے وہ اُس کو پالیتا ہے۔نہ صرف پالیتا ہے بلکہ میرا تو یہ ایمان ہے کہ وہ اس کو دیکھ لیتا ہے۔ارضی علوم کی تحصیل میں کس قدر وقت اور روپیہ صرف کرنا پڑتا ہے۔یہ علوم روحانی علوم کی تحصیل کے قواعد کو صاف طور پر بتارہے ہیں“۔( یعنی عام جود نیاداری کی تعلیم ہے اس پر محنت لگاتے ہیں روپیہ بھی لگاتے ہیں تو یہی اصول روحانی علوم کو حاصل کرنے کے لئے ضروری ہے۔) فرما جا کہ ”ہمارا مذہب جو روحانی علوم مبتدی کے لئے ہونا چاہئیں ، یہ ہے کہ وہ پہلے خدا کی ہستی ، پھر اس کی