خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 128 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 128

خطبات مسرور جلد 12 128 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 28 فروری 2014ء انبیاء نے پہلے سے دی تھی۔خدا نے آج تمہارے لئے پھر یہ امر ثابت کر دیا کہ میں صرف ان کا خدا نہیں جو مر چکے ہیں بلکہ ان کا بھی خدا ہوں جو زندہ ہیں۔اور نہ صرف ان کا خدا ہوں جو پہلے گزر چکے ہیں بلکہ ان کا بھی خدا ہوں جو آئندہ آئیں گے۔پس تم اس روشنی کو قبول کرو اور اپنے دلوں کو اس سے منور کر لو۔بہنو اور بھائیو! یہ زندگی عارضی ہے لیکن یہ خیال کرنا غلطی ہے کہ اس کے بعد فنا ہے۔فنا تو کوئی چیز ہی نہیں۔روح کو فنا کے لئے نہیں بلکہ ابدی زندگی کے لئے پیدا کیا گیا ہے۔اپنی پیدائش کے لمحے سے لے کر انسان ایک نہ ختم ہونے والے رستے پر چلنا شروع کر دیتا ہے اور سوائے اس کے کہ موت اس کی رفتار کی تیزی کا ذریعہ ہو اور کچھ نہیں۔یہ کیا بات ہے کہ تم جو چھوٹے چھوٹے مقابلوں میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی لگا تار کوشش میں لگے رہتے ہو اس بڑے مقابلہ کو نظر انداز کر رہے ہو جس میں ماضی، حال اور مستقبل کی تمام پشتوں کو لازماً حصہ لینا پڑے گا۔کیا تم کو معلوم نہیں کہ مشرق میں ایک فرستادہ مبعوث کیا گیا اور خدا نے اس کے ذریعے سچائی کو تمہارے دروازوں تک پہنچا دیا ہے۔تم سچے دل سے اس فضل کا شکر یہ ادا کر و جو تم پر کیا گیا تا تم پر زیادہ فضل نازل کئے جائیں اور تم اس کی رحمت کو لینے کے لئے آگے دوڑ و تا تمہارے لئے اس کی محبت ایک جوش مارے۔یہ کیا بات ہے کہ تم جو تمام ان نیند آور چیزوں کو جو دماغ میں سستی پیدا کریں نفرت سے دیکھتے ہو کس طرح ایسی چیز سے مطمئن ہو جو نفع رساں نہیں اور روح کی خواہشات کو دبانے والی ہے۔تم بتوں کے سامنے جھکنے سے تو انکار کرتے ہو پھر کس طرح تم ایسے بت کے آگے جھکتے ہو جس میں زندگی کی کوئی علامت نہیں۔آؤ اور اس ربانی شراب زندگی کو پیو جو خدا نے تمہارے لئے مہیا کی۔یہ ایسی شراب ہے جو عقل کو ہلاک کرنے والی نہیں بلکہ اس کو مضبوط کرنے والی ہے۔خوش ہو جاؤ اے دلہن کی سہیلیو ( یہ بائبل کے حوالے سے آگے اُس رنگ میں بیان فرمایا کہ ) خوش ہو جاؤ اے دلہن کی سہیلیو! اور خوشی کے گیت گاؤ کیونکہ دولہا آ پہنچا ہے۔وہ جس کی تلاش تھی مل گیا ہے۔وہ جس کا انتظار کیا جارہا تھا یہاں تک کہ انتظار کرنے والوں کی آنکھیں مدھم پڑ گئی تھیں اب تمہاری آنکھوں کو منور کر رہا ہے۔مبارک ہے وہ جو خدا کے نام پر آیا۔ہاں مبارک ہے جو خدا کے نام پر آیا۔وہ جو اس کو پالیتے ہیں سب کچھ پالیتے ہیں اور وہ جو اس کو نہیں دیکھ سکتے وہ کچھ بھی نہیں دیکھ سکتے۔وأخر دعوانا ان الحمد لله رب العالمین 66 (انوار العلوم جلد 8 صفحہ 415۔416۔دورہ کیورپ) آپ نے یہ مضمون یہاں ختم فرمایا۔پس بڑی حکمت سے ، بڑی جرات سے آپ نے اسلام کی