خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 129
خطبات مسرور جلد 12 129 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 28 فروری 2014ء خوبیاں بھی بیان کیں اور دعوت اسلام بھی دی۔جیسا کہ میں نے کہا، یہ ایک گھنٹے سے زائد کی تقریر تھی۔اس کا انتہائی مختصر خلاصہ چند نکات کے حوالے سے میں نے پیش کیا ہے۔بہر حال اس تقریر کا حاضرین پر جو اثر ہوا اُس کے بارے میں میں بیان کرنا چاہتا ہوں۔کانفرنس کے صدرا جلاس نے کہا، جو الفضل کی رپورٹ میں درج ہے کہ : ”مرزا بشیر الدین امام جماعت احمدیہ کے مضمون پڑھے جانے پر سر تھیوڈور ماریسن نے اپنے پریذیڈنشل ریمارکس میں کہا کہ اس ( یعنی احمد یہ ) سلسلہ اور ایسے ہی زمانہ حال کے دوسرے سلسلوں کا پیدا ہونا ثابت کرتا ہے کہ اسلام ایک زندہ مذہب ہے جس کی تجدید کے متعلق لوگ اعلی مطالعہ جاری رکھتے ہیں۔( حضرت ) مرزا بشیر الدین نے جن کے ہمراہ بہت سے سبز عماموں والے متبعین تھے فرمایا کہ سلسلہ احمد یہ سلسلہ موسویہ میں سلسلہ عیسویہ کی طرح اسلام میں ایک ضروری اور قدرتی تجدید ہے جس کی غرض کسی نئے ( شرعی ) قانون کا اجراء نہیں بلکہ اصلی اور حقیقی اسلامی تعلیم کی اشاعت کرنا ہے۔“ ( الفضل 30 ستمبر 1924 نمبر 35 جلد 12 صفحہ 2) پھر پریذیڈنٹ نے کہا ” مجھے زیادہ کہنے کی ضرورت نہیں۔مضمون کی خوبی اور لطافت کا اندازہ خود مضمون نے کرالیا ہے۔میں اپنی طرف سے اور حاضرین کی طرف سے مضمون کی خوبی ترتیب ، خوبی خیالات اور اعلیٰ درجہ کے طریق استدلال کے لئے حضرت خلیفہ اسی کا شکر یہ ادا کرتا ہوں۔حاضرین کے چہرے زبانِ حال سے میرے اس کہنے کے ساتھ متفق ہیں۔اور میں یقین کرتا ہوں کہ وہ اقرار کرتے ہیں کہ میں اُن کی طرف سے شکریہ ادا کرنے میں حق پر ہوں اور اُن کی ترجمانی کا حق ادا کر رہا ہوں۔پھر حضور کی طرف مخاطب ہو کر کہا کہ میں آپ کو لیکچر کی کامیابی پر مبارک بادعرض کرتا ہوں۔آپ کا مضمون بہترین مضمون تھا جو آج پڑھے گئے۔اور اس کے بعد بھی سر تھیوڈر ماریسن جو تھے ، وہ سٹیج پر بڑی دیر تک کھڑے رہے اور بعد میں اور بار بار مضمون کی تعریف کرتے رہے۔(ماخوذ از تاریخ احمدیت جلد 4 صفحہ 453-452) مضمون کے یہ پوائنٹ میں نے اس لئے بتائے ہیں کہ اس مضمون میں اسلام کی تبلیغ کی گئی تھی۔آخر میں جو پورا پیرا پڑھا گیا ہے۔اُس میں تو صاف بتایا گیا کہ جو مسیح آنے والا تھاوہ آ گیا۔پھر (فری چرچ کے ہیڈ ) ڈاکٹر والٹر والش Dr۔Walter Walsh) نے جو خود فصیح البیان لیکچرار تھے اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے کہا: ”میں نہایت خوش قسمت ہوں کہ مجھے یہ لیکچر سنے کا موقع ملا۔“