خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 126 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 126

خطبات مسرور جلد 12 126 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 28 فروری 2014ء بہر حال خلاصہ یہ کہ اس مضمون میں حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پہلے جماعت احمدیہ کی بنیاد اور قیام کا ذکر کیا ، جو 1889ء میں پڑی۔پھر آپ نے فرمایا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا دعویٰ مہدی ہونے کا تھا جس کی پیشگوئی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی تھی اور اسی طرح مسیح ہونے کا دعویٰ تھا جس کی پیشگوئی انجیل اور اسلامی کتب میں بھی موجود ہے۔اور آپ کے اس دعویٰ کی وجہ سے آپ کو ہر جگہ سے مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔مسلمان علماء نے بھی بڑھ بڑھ کر آپ کی مخالفت کی۔لیکن اس سب کے باوجود آپ کے گرد لوگ جمع ہونے شروع ہوئے اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایک جماعت بن گئی اور پھر جماعت دنیا کے مختلف ممالک میں بھی آہستہ آہستہ بنی شروع ہوئی۔میں مضمون کا خلاصہ بیان کر رہا ہوں اور خلاصہ کیا ؟ اس کو انتہائی خلاصہ کہہ سکتے ہیں، پوائنٹس جو تھے ، ویسے تو جو مختصر مضمون لکھا گیا ہے اس میں بھی میں نے جیسا کہ بتایا ایک گھنٹہ لگا تھا اور جو پہلا لکھا گیا تھا، احمدیت یعنی حقیقی اسلام وہ تو کافی لمبی کتاب بن جاتی ہے۔بہر حال پھر آپ نے فرمایا کہ حضرت مسیح موعود کی وفات کے بعد خلافت کا نظام جاری ہوا اور اس خلافت کے نظام کے تحت یہی مشن چلتے رہے اور دنیا کے درجنوں ممالک جو ہیں، وہاں جماعت کا قیام ہوا۔ہر مذہب کے لوگ اسلام میں، جماعت میں شامل ہونا شروع ہوئے۔پھر یہ بھی بتایا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ واضح فرمایا کہ پیشگوئیوں کے مطابق مسیح موعود کی ضرورت اس زمانے میں ہونی تھی۔کیونکہ یہی زمانہ تھا جس کی حالت یہ ہے کہ جو نشانیاں بتائی گئی تھیں ان کے مطابق جس میں کوئی نہ کوئی مصلح اور مسیح موعود آتا ہے جن کی پیشگوئی کی گئی تھی۔پھر آپ نے یہ بھی بتایا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ بھی فرمایا تھا کہ خدا تعالیٰ اپنے نیک بندوں سے کلام کرتا ہے۔اُن کی دعائیں سنتا ہے۔خدا رحیم و مشفق ہے۔اُس نے مسیح موعود کو بھیج کر اس زمانے میں بھی دنیا کی اصلاح کے سامان کئے ہیں۔حضرت مسیح موعود نے خدا تعالیٰ کی ذات پر یقین پیدا کروا کر اور اُس کی توحید ثابت کر کے اُس سے تعلق پیدا کروا کر آج بھی اللہ تعالیٰ کے زندہ ہونے کا ثبوت دیا ہے اور یہ بھی واضح طور پر بتایا کہ اگر کوئی مذہب خدا کے وجود کی کامل شناخت نہیں کروا سکتا تو وہ مذہب کہلانے کا مستحق نہیں ہے۔پھر حضرت مصلح موعود نے اپنے مضمون میں انبیاء کی حیثیت اور ہر فرد بشر کے خدا سے تعلق ، تا کہ روحانی ترقی ہو، اس کی بھی وضاحت فرمائی۔پھر آپ نے یہ بھی فرمایا کہ حضرت مسیح موعود نے اس بات کو بڑی حکمت اور دور اندیشی سے بیان فرمایا کہ قرآن کریم گو آخری اور کامل شریعت ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ انسان عقلی ترقی کے آخری دور تک پہنچ چکا ہے۔بلکہ قرآن کی آخری کتاب