خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 125
خطبات مسرور جلد 12 125 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 28 فروری 2014ء کلمات سے محظوظ فرمائیں۔اس پر حضرت خلیفہ اسیح الثانی " جو اپنے رفقاء کے ساتھ ،ساتھیوں کے ساتھ مسیج پر تشریف رکھتے تھے، کھڑے ہوئے اور انگلش میں آپ نے مختصر سا خطاب کیا کہ ”مسٹر پریذیڈنٹ، بہنو اور بھائیو! سب سے پہلے میں خدا کا شکر ادا کرتا ہوں کہ اُس نے اس کا نفرنس کے بانیوں کے دلوں میں یہ خیال پیدا کیا کہ لوگ اس طرح پر مذہب کے سوال پر غور کریں اور مختلف مذاہب سے متعلق تقریریں سن کر یہ دیکھیں کہ کس مذہب کو قبول کرنا چاہئے؟ پھر آپ نے کہا کہ اس کے بعد میں اپنے مرید چوہدری ظفر اللہ خان صاحب بارایٹ لاء سے کہتا ہوں کہ میرا مضمون سنائیں۔آپ نے کہا کہ ”میں ایسے طور پر اپنی زبان میں بھی لکھے ہوئے پرچے پڑھنے کا عادی نہیں ہوں کیونکہ میں ہمیشہ زبانی تقریریں کرتا ہوں اور کئی کئی گھنٹے تک، چھ چھ گھنٹے تک بولتا ہوں۔فرمایا کہ مذہب کا معاملہ اسی دنیا تک ختم نہیں ہو جا تا بلکہ وہ مرنے کے بعد دوسرے جہان تک جاتا ہے۔اور انسان کی دائمی راحت مذاہب سے وابستہ ہے۔اس لئے آپ اس پر غور کریں اور سوچیں اور مجھے امید ہے کہ آپ تو جہ سے نہیں گئے۔بہر حال چوہدری صاحب نے اُس مضمون کو پڑھنے پر تقریبا ایک گھنٹہ لگایا اور بڑے پرشوکت لیجے میں مضمون پڑھا گیا۔اس کے باوجود کہ چوہدری صاحب کے گلے میں خراش تھی۔لیکن اللہ تعالیٰ نے خاص تائید فرمائی اور بڑے اعلیٰ رنگ میں انہوں نے مضمون پڑھا۔( حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے ایک جگہ یہ بھی فرمایا ہے کہ چوہدری صاحب نے یہ مضمون جو پڑھا تھا، یہ اصل میں میری زبان تھی۔یعنی چوہدری صاحب پڑھ رہے تھے لیکن چوہدری صاحب کی زبان نہیں تھی ، میری زبان تھی۔) بہر حال اس مضمون پر حاضرین میں ایک وجد کی کیفیت طاری تھی۔ایسا معلوم ہوتا تھا کہ سب حاضرین گویا احمدی ہیں۔تمام لوگ ایک محویت کے عالم میں اخیر تک بیٹھے رہے۔جب مضمون میں اسلام کے متعلق کوئی ایسی بات بیان کی جاتی جو اُن کے لئے نئی ہوتی تو کئی لوگ خوشی سے اچھل پڑتے۔غلامی ،سود اور تعدد ازدواج وغیرہ مسائل کو نہایت واضح طور پر بیان کیا گیا۔اس حصہ مضمون کو بھی نہ صرف مردوں نے بلکہ عورتوں نے بھی نہایت شوق اور خوشی سے سنا۔ایک گھنٹے کے بعد لیکچر ختم ہوا تو لوگوں نے بڑی گرمجوشی کے ساتھ اور بڑی دیر تک تالیاں بجائیں۔جبکہ اجلاس کے جو پریذیڈنٹ تھے اُن کو کئی منٹ تک انتظار کرنا پڑا۔(ماخوذ از تاریخ احمدیت جلد 4 صفحہ 452-451 مطبوعہ ربوہ ) یہ مضمون انوار العلوم کی آٹھویں جلد میں موجود ہے۔