خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 124 of 900

خطبات مسرور (جلد 12۔ 2014ء) — Page 124

خطبات مسرور جلد 12 124 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 28 فروری 2014ء آرنلڈ اور پروفیسر مارگولیتھ (David Samuel Margoliouth) نے اور کمیٹی کے دوسرے ممبران نے نہایت خلوص اور محبت سے یہ فیصلہ کیا کہ حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کی خدمت میں کانفرنس میں شمولیت کی درخواست کی جائے اور صوفی صاحب کو بھی ساتھ لانے کی گزارش کی جائے۔اس طرح حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں انگلستان کے جو بڑے بڑے مستشرقین تھے، اُن کا دعوت نامہ پہنچا۔(ماخوذ از تاریخ احمدیت جلد 4 صفحہ 423-422) بہر حال جیسا کہ میں نے کہا، بڑے سوچ و بچار کے بعد یہ دعوت قبول کی گئی تھی۔حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے کا نفرنس کے لئے مضمون لکھنا شروع کیا اور اس کا ترجمہ اور اصلاح وغیرہ چوہدری ظفر اللہ خان صاحب ،مولوی شیر علی صاحب اور حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے کی۔لیکن جو مضمون لکھا گیا تھا تو وہ بہت لمبا بن گیا۔اس کا کوئی حصہ پڑھ کر سنانا مناسب نہیں تھا۔اتنا وقت ہی نہیں تھا۔کیونکہ سارا پڑھا نہیں جا سکتا تھا اور خلاصہ بیان کرنا مناسب نہیں تھا۔اس لئے یہ فیصلہ ہوا کہ نیا مضمون لکھا جائے۔چنانچہ پھر نیا مضمون لکھا گیا اور حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے لکھا اور اُس کا پھر ترجمہ ہوا۔(ماخوذ از انوار العلوم جلد 8 صفحہ 423-422) بہر حال آپ سفر پر روانہ ہوئے۔جیسا کہ میں نے کہا 23 ستمبر 1924 کو یہ کانفرنس شروع ہوئی۔یہ دن سفر یورپ کی تاریخ جو ہے، اُس میں بھی سنہری دن تھا۔اس دن ویمبلے کا نفرنس میں حضرت خلیفتہ اسیح الثانی کا جو بے نظیر مضمون تھا، یہ پڑھا جانا تھا اور اس کے پڑھے جانے سے اسلام اور احمدیت کی شہرت کو چار چاند لگے۔یورپ میں اسلام کا پیغام صحیح رنگ میں پہنچایا گیا۔اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا لندن میں تقریر کرنے کا جو ایک رؤیا تھا، اُس کا ذکر حضرت مصلح موعود نے تقریر میں بھی کیا ہے، وہ پوری آب و تاب سے پورا ہو گیا۔یہ کہتے ہیں کہ مضمون کا وقت پانچ بجے شام مقرر تھا، جبکہ اس سے پہلے لوگ اڑھائی گھنٹے سے مسلسل بیٹھے اسلام سے متعلق باتیں سن رہے تھے، یا مذہب سے متعلق باتیں سن رہے تھے۔مگر جو نہی آپ کی تقریر کا وقت آیا تو نہ صرف لوگ پورے ذوق و شوق سے اپنی جگہ پر بیٹھے رہے بلکہ دیکھتے دیکھتے اور لوگ بھی ہال میں آنے شروع ہو گئے اور ہال بالکل بھر گیا۔اس سے پہلے کسی لیکچر کے وقت حاضری اتنی زیادہ نہیں تھی۔اجلاس کے صدر سر تھیوڈر ماریسن (Sir Theodore Morrison) تھے۔انہوں نے حضور کا تعارف کروایا اور پھر نہایت ادب و احترام کے جذبات کے ساتھ آپ سے درخواست کی کہ اپنے