خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 88 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 88

خطبات مسرور جلد 11 88 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 8 فروری 2013ء خواب کے اندر ایک مصفی پانی سے، صاف پانی سے مچھلیاں پکڑنی شروع کیں کہ اتنے میں ایک طوفان آیا اور ذراہی کم ہوا تھا کہ اتنے میں زلزلہ سے زمین بلنی شروع ہوگئی اور میں زمین کو ہلتے دیکھ کر سر بسجود ہو گیا اور سجدے کے اندر یا حَى يَا قَيُّومُ بِرَحْمَتِكَ اَسْتَغِيْثُ پڑھنا شروع کر دیا کہ اتنے میں ایک اور زلزلہ آیا جس پر لوگوں نے کہنا شروع کیا کہ یہ تو معمولی زلزلہ ہے، زور کا زلزلہ تو نہیں آیا۔جب انہوں نے یہ کہنا شروع کیا تو میرے دل میں ڈالا گیا کہ تم بھی ابھی سر بسجو در ہو، زلزلہ آتا ہے۔اور اس کے بعد ایک ایسا زلزلہ آیا جس سے بہت ہی سخت تباہی ہوئی۔(ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ غیر مطبوعہ جلد 6 صفحہ 138 روایات حضرت امیر محمد خانصاحب ) یہ جون 1905ء کے خواب کا ذکر کر رہے ہیں۔کانگڑہ کا جو زلزلہ بڑا ز بر دست آیا تھا، وہ تو اپریل میں آیا تھا اور اُس کے بعد بھی پھر زلزلے آئے ہیں۔تو شاید آئندہ زلزلوں کی بھی ان کو اطلاع دی گئی۔پھر جنگ عظیم کی طرف بھی اشارہ ہو سکتا ہے۔لیکن بہر حال ایک بات ، ایک سبق اس میں یہ بھی ہے کہ ایک زلزلہ کی آفت کی حالت کو دیکھ کے یا دوسری آفات کو دیکھ کے انسان کو لا پرواہ نہیں ہو جانا چاہئے بلکہ ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے آگے سر جھکا رہنا چاہئے اور اُسی سے کو لگائے رکھو تبھی آفات سے بچت ہو سکتی ہے۔کیونکہ یہ زمانہ جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا زمانہ ہے، ان میں زلازل کی اور آفات کی بہت زیادہ پیشگوئیاں ہیں۔اس لئے اس طرف بھی اشارہ ملتا ہے کہ ہمیں اللہ تعالیٰ کے آگے ہمیشہ جھکے رہنا چاہئے۔لا پرواہ نہ ہو جا ئیں۔پھر امیر محمد خان صاحب ہی فرماتے ہیں کہ 29 مئی 1905ء کو میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک بارش اور آندھی کا طوفان ہے جس کو دیکھ کر لوگ ایک درخت کے نیچے سے میدان میں بھاگے۔اس خیال سے کہ کہیں یہ درخت ہمیں نہ دبا لے۔مگر غریب اور مسکین لوگوں نے درخت کے سائے کو غنیمت جانا اور میدان سے بھاگ کر درخت کے نیچے آگئے اور جو نہی اُن غرباء کا درخت کے سائے میں پناہ لینا تھا کہ طوفان سے میدان والے تباہ ہو گئے۔یہ دیکھ کر میری زبان پر یہ الفاظ جاری ہوئے۔ختم وہی ہے جس کا اختتام ایسا ہو۔(ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ غیر مطبوعہ جلد 6 صفحه 137-138 از روایات حضرت امیر محمد خانصاحب ) تو عموماً دیکھا گیا ہے کہ امراء کی نسبت غرباء ہی زیادہ تر انبیاء کو ماننے والے بھی ہوتے ہیں اور اُن کی چھاؤں میں آنے کی کوشش کرتے ہیں۔