خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 87
خطبات مسرور جلد 11 87 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 8 فروری 2013ء کسی نے غور نہیں کیا مگر مرزا صاحب نے تو ہر باطل کا کھنڈن کر دیا۔( ہر باطل کو جھٹلا دیا، کھول کے بیان کر دیا، تباہ کر دیا۔) کہتے ہیں پھر میں نے کہا کہ اگر یہی طریق چارپایوں میں روا رکھا جائے تو سواری کے جانور اور دودھ اور کھیتی باڑی کے جانور کہاں سے آئیں؟ اور اس طریق سے مخلوق کی پیدائش کی غرض وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ (الذاريات: 57) مفقود ہو جائے اور نبیوں اور او تاروں کی آمد کا سلسلہ بھی بند ہو جائے جن کے ذریعہ لوگ مکتی حاصل کرتے ہیں۔جب میں یہ کہہ چکا تو خواب میں ہی دیکھ رہے ہیں کہ حضرت خلیفہ مسیح الاول رضی اللہ تعالیٰ عنہ جو درس فرما رہے تھے، اپنی طرف اشارہ کر کے فرمانے لگے کہ تم جو مجھ سے معارف قرآن سیکھ رہے ہو، رہبانیت کے طریق پر عمل کرنے سے یہ موقع کہاں میسر آ سکتا تھا۔(اس طرح کے رہبانیت سے جو راہب بننے کی کوشش کرتے ہیں، وہ بھی سمجھتے ہیں ناں کہ ہم بڑی نیکی کے اعلیٰ مدارج پر پہنچ گئے۔تو خواب میں ہی اللہ تعالیٰ نے ان کو یہ بھی بتایا۔کہتے ہیں کہ ) جب بیداری ہوئی تو مجھے تفہیم ہوئی، یہ سمجھایا گیا کہ دیکھو یہ سادھو کا جوکوڑھ کا مرض ہے یہ بھی بیجا طور پر قانونِ قدرت سے ہٹنے کے نتیجہ میں ہے۔(ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ غیر مطبوعہ جلد 6 صفحہ 144 - 146 از روایات حضرت امیر محمد خانصاحب ) اسی طرح خدا تعالیٰ کے قانون کے خلاف جو بھی غیر فطری عمل ہوتے ہیں یا بعض ایسی تنظیمیں بن گئیں، پارلیمنٹیں ، قانون ساز ادارے اس کے لئے قانون بنانے لگ گئے ہیں تو پھر خدا تعالیٰ کا قانون بھی حرکت میں آتا ہے اور حرکت میں آ کر قوموں کی ہلاکت کا باعث بنتا ہے۔ان کو بھی جو بہت زیادہ دنیا دار لوگ ہیں ، پس یہ ہر غیر فطری عمل کو اپنے قانون کا حصہ بنانا چاہتے ہیں۔اس لئے احمدیوں کو جو اس وقت دنیا کے اکثر ممالک میں پھیلے ہوئے ہیں ان کا حصہ نہ بننے کے لئے آج کل بہت زیادہ استغفار کرنے کی ضرورت ہے۔حضرت عبدالستار صاحب ولد عبداللہ صاحب فرماتے ہیں۔ان کی 1892ء کی بیعت ہے کہ میری بیوی نے خواب سنائی کہ مجھے حضرت صاحب نے دو روپے دیئے ہیں۔جب مقدمہ فتح ہوا تو حضرت صاحب نے مجھے دو روپے دیئے۔اس طرح وہ خواب پورا ہوا اور میں نے اپنی بیوی کو وہ دونوں روپے دے کر خواب پورا کر دیا۔(ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ غیر مطبوعہ جلد 6 صفحہ 188 روایات حضرت عبدالستار صاحب) پھر حضرت امیر محمد خان صاحب ہی کی ایک روایت ہے۔کہتے ہیں کیم جون 1905ء کو میں نے