خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 84
خطبات مسرور جلد 11 84 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 8 فروری 2013ء کے ساتھ جو دیوار کا مقدمہ تھا ) حضور نے فرمایا کہ جس کسی کو خواب آوے وہ مجھے بتلا دے اور کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ تو یوسف ثانی ہے۔“ یوسف کو بھی بھائیوں کی وجہ سے تکلیف پہنچی تھی۔فرمایا کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ” تو یوسف ثانی ہے۔کہتے 66 ہیں میں نے بھی ایک خواب حضور کو سنائی کہ میں ایک میٹھا خربوزہ کھا رہا ہوں۔جب میں نے اُس کی ایک کاش اپنے لڑ کے عبداللہ کو دی تو وہ خشک ہو گئی۔اس پر حضور نے فرمایا کہ تمہارے گھر میں اسی بیوی سے ایک اورلڑکا پیدا ہو گا مگر وہ زندہ نہیں رہے گا۔چنانچہ ایک لڑکا میرے ہاں پیدا ہوا اور گیارہ ماہ کا ہو کر فوت ہو گیا۔اس کے بعد اس بیوی سے کوئی بچہ نہیں ہوا۔( گو اس خواب کا مقدمہ سے تعلق تو نہیں تھا ، لیکن بہر حال انہوں نے اس وقت یہ خواب دیکھی تو یہ بتائی۔) (ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ غیر مطبوعہ جلد 10 صفحہ 355 روایات حضرت شیخ عطا محمد صاحب سابق پٹواری و نجواں ) حضرت امیر محمد خان صاحب جنہوں نے 1903ء میں بیعت کی، فرماتے ہیں کہ جنوری 1917ء بروز جمعرات میں نے خواب میں ایک شخص کو سر پٹ گھوڑا دوڑاتے چلے آتے دیکھا اور میں ایک کنوئیں کے پاس میدان میں کھڑا تھا۔اُس شخص نے گھوڑے سے اتر کر مجھے کہا کہ میں بادشاہ ہوں اور احمد علی میرا نام ہے۔میرے لئے دعا کی جائے۔تب میں نے دعا کے لئے ہاتھ اُٹھایا اور اُس نے بھی میرے ساتھ دعا میں شمولیت اختیار کی۔جب ہم دعا سے فارغ ہوئے تو وہ فوراً گھوڑے پر سوار ہوکر سر پٹ گھوڑا دوڑا کر واپس چلا گیا۔ابھی تھوڑی دور گیا تھا کہ اُس کا بیشمارلشکر گردوغبار اڑاتا ہوا اُس سے آملا۔( یہ خواب بیان فرمارہے ہیں ) جسے وہ ساتھ لے کر مخالف لشکر کے مقابلہ میں ڈٹ گیا۔مخالف کا لر ہتھیاروں اور وردیوں سے سجا ہوا تھا جسے دیکھ کر اُس کا مقابلہ مشکل نظر آتا تھا۔تب کسی نے کہا، دونوں کے مقابلہ کی یہ کوئی نسبت نہیں تھی۔لیکن پھر کہتے ہیں کسی نے خواب میں ان کو کہا۔کیا مور کی سجاوٹ کم ہوتی ہے۔( یہ فوجی سجے تو ہوئے ہیں، مور بھی بڑا خوبصورت ہوتا ہے، سجا ہوتا ہے ) مگر جو نہی بندوق کی آواز سنتا ہے فوراً بھاگ جاتا ہے اور غاروں میں جا چھپتا ہے۔اس طرح مخالف کا لشکر بھاگ جائے گا۔پھر کہتے ہیں میری آنکھ کھل گئی۔(ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ غیر مطبوعہ جلد 6 صفحہ 151 - الف از روایات حضرت امیر محمد خانصاحب ) پس اصل طاقت خدا تعالیٰ کے فضل اور اُس کی تائیدات ونصرت کی ہوتی ہے، نہ ظاہری شان و شوکت کی۔جو کام دعاؤں سے ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے سے ہوتا ہے، وہ ظاہری شان و