خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 83 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 83

خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 8 فروری 2013ء خطبات مسرور جلد 11 83 میری بیوی اس واقعہ کو بغور دیکھ رہی تھی۔مسکرا کر کہنے لگی ، یہ تو آپ کا خواب ہے جو مجھے آپ پہلے سنا چکے خص ہیں ، لفظ بلفظ پورا ہورہا ہے۔(ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ غیر مطبوعہ جلد 11 صفحہ 362-363 روایات حضرت میاں محمد ظہور الدین صاحب ڈولی ) تو بعض دفعہ اللہ تعالیٰ اس طرح بھی خوابوں کی اصل حالت میں تعبیر فرما دیتا ہے۔ایک نیک سیتی کے فاقہ کی حالت کو دور کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے فوری انتظام فرمایا۔خدا کو نہ ماننے والے بیشک یہ کہتے رہیں کہ اُس کو قدرتی خیال آ گیا اور وہ دودھ لے کے آگئی، یہ اتفاقی حادثہ تھا۔دونوں طرف جو اطلاع اللہ تعالیٰ پہلے خواب میں دے رہا ہے، یہ اتفاقی حادثہ نہیں ہو سکتا۔یہی جو قدرت ہے، یہی تو خدا تعالیٰ ہے جس نے ایک عورت کے دل میں ایک نیک آدمی کی بھوک مٹانے کا خیال ڈالا اور فوری طور پر پھر اُس نے اُس کو پورا بھی کر دیا۔حضرت مولوی عبد الرحیم صاحب نیز جن کا بیعت کا سن 1901ء ہے، بیان فرماتے ہیں کہ میں جبکہ ہائی سکول میں مدرس تھا تو ایک دن حضرت مولوی شیر علی صاحب سے جو اُس وقت ہیڈ ماسٹر تھے، کھیلوں کے معاملے میں جن کا میں انچارج تھا، کچھ اختلاف ہو گیا۔اُسی رات میں نے تہجد میں دعا کی، اختلاف کی وجہ سے کہتے ہیں بڑا پریشان تھا۔تو مجھے حریر پر لکھا ہوا دکھلایا گیا، ایک بار یک کاغذ پر لکھا ہوا دکھلایا گیا کہ "No Tournaments, No Games"۔اس کے بعد کہتے ہیں میں بیمار ہوکر ٹورنامنٹ میں شامل نہیں ہو سکا۔نیز جو ٹورنامنٹ کے دن تھے ان میں متواتر شدید بارش ہو جانے کی وجہ سے گورداسپور ٹورنامنٹ کمیٹی نے ٹورنامنٹ بالکل بند کر دیا۔ہمارے طلباء کو بہت خوشی ہوئی کہ ایک الہام پورا ہو گیا۔کیونکہ انہوں نے ، جو پلیئر تھے، کھلاڑی تھے اُن کو بھی بتا دیا تھا تو اُن کو یہ خوشی تھی کہ ہمارے ٹیچر کا الہام پورا ہو گیا۔وہ اللہ اکبر کے نعرے مارتے ہوئے جب قادیان آئے تو اس الہام کی تمام تفصیل حضرت اقدس کے حضور پہنچی۔اور میں نے لکھ کر مفصل عرض کیا۔اس پر حضور نے مجھے لکھا۔آپ کا الہام بڑی صفائی سے پورا ہوا۔یہ آپ کی صفائی قلب کی علامت ہے۔اس طرح حضور خدام کے کشوف اور رویا پر اظہار خوشنودی فرماتے تھے۔(ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ غیر مطبوعہ جلد 11 صفحہ 312 -313 روایات حضرت مولوی عبدالرحیم صاحب نیر) حضرت شیخ عطا محمد صاحب سابق پٹواری و نجواں بیان فرماتے ہیں کہ جب دیوار کا مقدمہ تھا تو حضرت اقدس بٹالہ تاریخ پر تشریف لے گئے ہوئے تھے ( یعنی قادیان میں ان کے چچا زاد بھائیوں