خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 85 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 85

خطبات مسرور جلد 11 85 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 8 فروری 2013ء شوکت سے نہیں ہوتا۔ہاں ہر کام کا ایک وقت مقرر ہے اور اُس وقت کے آنے پر اللہ تعالیٰ پھر اُس کا انجام دکھاتا ہے۔حضرت میاں امام الدین صاحب سیکھوانی فرماتے ہیں۔ان کی بیعت 23 رنومبر 1889ء کی ہے۔چھوٹی سی خواب ہے۔کہتے ہیں کہ کنڈے میں حضور ایک جگہ ٹہل رہے تھے ( جگہ کا نام ہے، کنڈا) وہاں اُس وقت اکیلے تھے۔میں نے کچھ رقم حضور کے پیش کی۔شاید وہ بیس روپے سے دو تین روپے کم تھے۔تو دیکھ کر مسکرائے اور فرمایا کیسے ہیں؟ میں نے کہا حضور مجھے خواب آئی تھی کہ میں نے اتنی رقم آپ کو دی ہے، خواب پوری کی ہے۔آپ نے منظور فرمائی۔(ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ غیر مطبوعہ جلد 7 صفحہ 424 روایات حضرت میاں امام الدین صاحب سیکھوانی ) حضرت امیر محمد خان صاحب فرماتے ہیں جن کا بیعت کا سن 1903ء ہے کہ میرے بڑے بھائی چوہدری عطا محمد خان صاحب کا ایک زمین کے متعلق مقدمہ تھا۔میں نے 21 جنوری 1913ء کو خواب میں دیکھا کہ اُن کی بیوی غیر سے نکاح کر رہی ہے۔چنانچہ وہ مقدمہ خارج ہو گیا اور وہ جائیداد بھی ہاتھ سے نکل گئی۔(ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ غیر مطبوعہ جلد 6 صفحہ 144 روایات حضرت امیر محمد خانصاحب ) بعض دفعہ بعض لوگ خواب بھیج دیتے ہیں۔کوئی خواب دیکھی تو فوراً الزام تراشیاں بھی شروع ہو جاتی ہیں اور فکرمندیاں بھی شروع ہو جاتی ہیں۔تو خوابوں کی مختلف تعبیریں ہوتی ہیں۔اب یہاں انہوں نے خواب دیکھی کہ بیوی غیر سے نکاح کر رہی ہے۔(جس کی تعبیر یہ کی کہ جائیداد کا مقدمہ تھا اور وہ مقدمہ ہار گئے۔حضرت امیر محمد خان صاحب جن کا بیعت کا سن 1903 ء ہے، انہی کی روایت ہے۔ان کی کافی ساری روایات خوابوں کے بارے میں ہیں۔کہتے ہیں کہ 18 دسمبر 1912 ء کی رات میں نے خواب میں دیکھا کہ میرے گھر میں لڑکا پیدا ہوا ہے جسے میں سینہ سے لگا کر درود شریف پڑھ رہا ہوں اور پتاشے تقسیم کر رہا ہوں۔لڑکا خوبصورت تو ہے مگر دُبلا اور کمزور ہے۔لہذا 15 فروری 1913ء کو اللہ تعالیٰ نے مجھے فرزند عطا کیا جس کا نام حضرت خلیفہ اول رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عبداللہ خان رکھا۔جس کی کمزوری اب 1938ء میں چوبیس سال کی عمر میں برابر چلی آ رہی ہے۔(ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ غیر مطبوعہ جلد 6 صفحه 143 از روایات حضرت امیر محمد خانصاحب )