خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 680
خطبات مسرور جلد 11 680 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 6دسمبر 2013ء ہے۔اگر انسان کی عملی حالت درست نہیں ہے تو ایمان بھی نہیں ہے۔مومن حسین ہوتا ہے۔“ ایک خوبصورت انسان ہوتا ہے۔جس طرح ایک خوبصورت انسان کو معمولی اور ہلکا سا زیور بھی پہنا دیا جائے تو وہ اُسے زیادہ خوبصورت بنا دیتا ہے۔اسی طرح پر ایک ایمان دار کو اُس کا عمل نہایت خوبصورت بنادیتا ہے۔اگر وہ بد عمل ہے تو پھر کچھ بھی نہیں۔انسان کے اندر جب حقیقی ایمان پیدا ہو جاتا ہے تو اُس کو اعمال میں ایک خاص لذت آتی ہے اور اُس کی معرفت کی آنکھ کھل جاتی ہے۔وہ اس طرح نماز پڑھتا ہے جس طرح نماز پڑھنے کا حق ہوتا ہے۔گناہوں سے اُسے بیزاری پیدا ہو جاتی ہے۔ناپاک مجلس سے نفرت کرتا ہے۔اور اللہ تعالیٰ اور رسول کی عظمت اور جلال کے اظہار کے لئے اپنے دل میں ایک خاص جوش اور تڑپ پاتا ہے۔" ( ملفوظات جلد اول صفحہ 249۔مطبوعہ ربوہ) پھر آپ نے فرمایا کہ: "رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کے پوچھنے پر فرمایا کہ مجھے سورۃ ہود نے بوڑھا کر دیا۔کیونکہ اس کے حکم کے رُو سے بڑی بھاری ذمہ داری میرے سپرد ہوئی ہے۔اپنے آپ کو سیدھا کرنا اور اللہ تعالیٰ کے احکام کی پوری فرمانبرداری کرنا جہاں تک انسان کی اپنی ذات سے تعلق رکھتی ہے ممکن ہے کہ وہ اُس کو پورا کرے لیکن دوسروں کو ویسا ہی بنانا آسان نہیں ہے۔اس سے ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بلندشان اور قوت قدسی کا پتہ لگتا ہے۔چنانچہ آپ نے اس حکم کی کیسی تعمیل کی۔صحابہ کرام کی وہ پاک جماعت تیار کی کہ اُن کو كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ (آل عمران: 111 ) کہا گیا اور رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ (البینہ: 9)‘ کی آواز اُن کو آ گئی۔آپ کی زندگی میں کوئی بھی منافق مدینہ طیبہ میں نہ رہا۔غرض ایسی کامیابی آپ کو ہوئی کہ اس کی نظیر کسی دوسرے نبی کے واقعات زندگی میں نہیں ملتی۔اس سے اللہ تعالیٰ کی غرض یہ تھی کہ قیل و قال ہی تک بات نہ رکھنی چاہئے۔کیونکہ اگر نرے قیل وقال اور ریا کاری تک ہی بات ہو تو دوسرے لوگوں اور ہم میں پھر امتیاز کیا ہو گا اور دوسروں پر کیا شرف !۔فرماتے ہیں: ”تم صرف اپنا عملی نمونہ دکھاؤ اور اس میں ایک ایسی چمک ہو کہ دوسرے اُس کو قبول کرلیں۔اس تمہید کے بعد آپ نے پھر جماعت کو نصیحت فرمائی کہ تم صرف اپنا عملی نمونہ دکھاؤ اور اس میں ایک ایسی چمک ہو کہ دوسرے اُس کو قبول کر لیں کیونکہ جب تک اس میں چمک نہ ہو، کوئی اس کو قبول نہیں کرتا۔کیا کوئی انسان میلی چیز پسند کر سکتا ہے؟ جب تک کپڑے میں ایک داغ بھی ہو، وہ اچھا نہیں لگتا۔اسی طرح جب تک تمہاری اندرونی حالت میں صفائی اور چمک نہ ہوگی ،کوئی خریدار نہیں 66