خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 679 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 679

خطبات مسرور جلد 11 679 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 6دسمبر 2013ء غلط ہو۔آج جماعت احمدیہ ان کو چیلنج کر کے دلائل سے ان کا منہ بند کرتی ہے اور ہمارے دلائل کا ہی اثر ہے کہ جس نے یہ دعویٰ کیا تھا اور ٹی وی چینل پر یہاں پر وگرام بھی کیا تھا کہ قرآن کریم خدائی صحیفہ نہیں ، اُس کو جب ہم نے مقابل پر بلایا تو اُس نے آنے سے انکار کر دیا۔بہر حال کہنے کا مقصد یہ ہے کہ ہم یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ عیسی علیہ السلام فوت ہو گئے۔ہم یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے عیسی کی بعثت ثانی کے طور پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اس زمانے میں بھیجا ہے۔ہم یہ یقین رکھتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر اترنے والی آخری شرعی کتاب آج تک اپنی اصلی حالت میں محفوظ ہے تو کیا یہ سب اور متفرق اعتقادی باتیں ہمیں ہمارا مقصد پورا کرنے میں کامیاب کر دیں گی !؟ تو جواب یہ ہے اور یقیناً یہی جواب ہے کہ نہیں۔کیونکہ اگر حضرت عیسی علیہ السلام کی وفات کو ثابت کرنے کے بعد عیسی کی آمد ثانی جو آ نحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں سے ہوئی تھی ، جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے عاشق صادق کے وجود سے ہوئی تھی ، اس بات کو اگر ہم وَآخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا ( الجمعة : 4 ) کو سامنے رکھتے ہوئے اپنے اندر وہ پاک تبدیلیاں پیدا نہیں کرتے جو آنحضرت صلی اللہ بهم علیہ وسلم کے صحابہ میں ہوئیں تو صرف عقیدے پر قائم ہونا فائدہ نہیں پہنچائے گا۔جب ہم یہ اعلان کرتے ہیں کہ حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام وہی مسیح موعود ہیں جس کے آنے کی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی تھی اور آپ علیہ السلام سے اللہ تعالیٰ کلام کرتا تھا تو پھر آپ کی تعلیم کا اثر بھی ہمیں اپنے پر ظاہر کرنا ہوگا۔ورنہ صرف عقیدہ بے معنی ہے۔اگر ہم قرآن کریم کو آج تک محفوظ سمجھتے ہیں لیکن اس میں بیان احکامات جو ہماری عملی زندگی کے لئے ضروری ہیں اُن پر عمل نہیں کرتے تو قرآن کریم کے دفاع میں صرف ہمارا اعلان ہمیں کوئی فائدہ نہیں دے گا۔یہ اعلان تبھی پر اثر ہو گا جب ہم اس تعلیم کو اپنی عملی حالتوں پر جاری کریں گے۔پس یہ عقائد جو ہم پر عملی ذمہ داری ڈالتے ہیں انہیں پورا کرنے کی ہمیں کوشش کرنی چاہئے۔اپنی عملی حالتوں کی درستگی کی بہت بڑی ذمہ داری ہے جو ہم نے ادا کرنی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک جگہ فرماتے ہیں کہ : ” پس یاد رکھو کہ صرف لفاظی اور لستانی کام نہیں آ سکتی ، جب تک کہ عمل نہ ہو۔محض باتیں عند اللہ کچھ بھی وقعت نہیں رکھتیں۔“ ( ملفوظات جلد اوّل صفحہ 48 - مطبوعہ ربوہ ) پھر آپ نے فرمایا کہ اپنے ایمانوں کو وزن کرو۔اپنے ایمانوں کو وزن کرو۔عمل ایمان کا زیور