خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 61
خطبات مسرور جلد 11 61 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 25 جنوری 2013ء انتہائی درجہ پر محبت کی اور انتہائی درجہ پر بنی نوع کی ہمدردی میں اس کی جان گداز ہوئی۔اس لئے خدا نے جو اُس کے دل کے راز کا واقف تھا اُس کو تمام انبیاء اور تمام اولین و آخرین پر فضیلت بخشی اور اُس کی مرادیں اُس کی زندگی میں اُس کو دیں۔وہی ہے جو سر چشمہ ہر ایک فیض کا ہے اور وہ شخص جو بغیر اقرارا فاضہ اُس کے کسی فضیلت کا دعویٰ کرتا ہے۔وہ انسان نہیں ہے بلکہ ذریت شیطان ہے کیونکہ ہر ایک فضیلت کی کنجی اُس کو دی گئی ہے ( یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو )۔اور ہر ایک معرفت کا خزانہ اُس کو عطا کیا گیا ہے۔جو اس کے ذریعہ سے نہیں پاتا وہ محروم از لی ہے۔ہم کیا چیز ہیں اور ہماری حقیقت کیا ہے۔ہم کا فرنعمت ہوں گے اگر اس بات کا اقرار نہ کریں کہ توحید حقیقی ہم نے اسی نبی کے ذریعہ سے پائی اور زندہ خدا کی شناخت ہمیں اسی کامل نبی کے ذریعہ سے اور اس کے نور سے ملی ہے اور خدا کے مکالمات اور مخاطبات کا شرف بھی جس سے ہم اُس کا چہرہ دیکھتے ہیں اسی بزرگ نبی کے ذریعہ سے ہمیں میسر آیا ہے۔اس آفتاب ہدایت کی شعاع دُھوپ کی طرح ہم پر پڑتی ہے اور اُسی وقت تک ہم منو ررہ سکتے ہیں جب تک کہ ہم اُس کے مقابل پر کھڑے ہیں“۔(حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 119-118) فرمایا: ” وہ انسان جو سب سے زیادہ کامل اور انسانِ کامل تھا اور کامل نبی تھا اور کامل برکتوں کے ساتھ آیا جس سے روحانی بعث اور حشر کی وجہ سے دنیا کی پہلی قیامت ظاہر ہوئی اور ایک عالم کا عالم مرا ہوا اس کے آنے سے زندہ ہو گیا۔وہ مبارک نبی حضرت خاتم الانبیاء امام الاصفياء ختم المرسلين فخر النبيين جناب محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔اے پیارے خدا اس پیارے نبی پر وہ رحمت اور درود بھیج جو ابتداء دنیا سے تو نے کسی پر نہ بھیجا ہو۔“ اتمام الحجۃ۔روحانی خزائن جلد 8 صفحہ 308) 66 اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ۔پس یہ تھا مقام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بیان فرمایا اور یہی وجہ ہے کہ جب لوگوں نے مختلف خواہیں دیکھیں تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے وجود میں دیکھا۔یعنی دو وجود ایک ہی جان ہو گئے۔پس ہمارا بھی کام ہے کہ آج اور ہمیشہ اپنی زبان کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجنے سے تر رکھیں اور اس میں ترقی کرتے چلے جائیں۔اسی طرح آپ کے اُسوہ پر عمل کرنے والے ہوں اور اس میں بھی ہمیشہ آگے بڑھتے چلے جانے والے ہوں۔جیسا کہ میں نے کہا آج جلسے بھی بڑے ہورہے ہیں، جلوس نکل رہے ہیں، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت منائی جا رہی ہے لیکن وہاں آپ کی تعلیم کا اظہار نہیں ہو رہا۔ربوہ میں تو شاید اس وقت جو جلوس نکل رہے ہوں اُن میں سوائے