خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 60 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 60

خطبات مسرور جلد 11 60 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 25 جنوری 2013ء پس اسلام کی جو خوبصورت تعلیم ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا صحیح چہرہ دکھانا اور آپ پر لگائے تمام الزامات کو دور کرنا یہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کا ہی کام تھا۔اب یہ دیکھیں کہ یہ مقابلہ جوعبد اللہ آتھم کے ساتھ تھا اُس میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور اسلام کا دفاع کر رہے تھے اور بعض مسلمان کہلانے والے بلکہ اُن کے علماء بھی دوسروں کا ساتھ دے رہے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اسلام کی سچائی ظاہر کرنا چاہتے ہیں، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خوبصورت چہرہ دکھانا چاہتے ہیں اور یہ لوگ آپ کی مخالفت کر رہے تھے۔اب آج یہ لوگ بڑے جلوس نکال رہے ہیں۔میلاد نبی کی خوشیاں منارہے ہیں تو حقیقی خوشی جشن منانے میں تو نہیں ہے بلکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغام کو دنیا میں پھیلانے میں ، آپ کی خوبصورت تعلیم کو دنیا کے ہر فرد تک پہنچانے میں ہے۔آپ پر درود بھیجنے میں ہے۔پہلے میں نے ایک حوالہ پڑھا تھا کہ دین میں قوت پیدا کرو۔تو یہ دین میں قوت پیدا کرنا آج ہر مسلمان کا کام ہے اگر حقیقی مسلمان ہے۔اور وہ صرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس عاشق صادق کے ساتھ جڑ کر ہی ہو سکتا ہے۔آتھم کی بھی موت کچھ عرصہ تک تو ٹل گئی تھی لیکن چھ سات مہینے بعد ، کیونکہ اُس نے ایک طرح کی تو بہ کی تھی ، اور اُن الفاظ کو دہرانے سے پر ہیز کیا تھا، احتراز کیا تھا تو چند مہینہ کے بعد پھر وہ موت واقع ہوگئی۔تو یہی پیشگوئی تھی کہ اگر چہ کچھ دیر کے لئے موت ٹل تو سکتی ہے لیکن یہ واقعہ ضرور ہوگا۔اور وہ ہوا۔اور جیسا کہ میں نے کہا، ایک خواب سنائی تھی کہ حکومتیں اگر حاصل کرنی ہیں، دنیا پر غلبہ حاصل کرنا ہے تو تبلیغ کے ذریعہ سے ہو گا، اس طرف بھی کوشش کرنے کی ضرورت ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خوبصورت چہرہ آج حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے علاوہ اور کوئی نہیں جو دکھا سکے اور نہ کوئی ہے جو دکھا رہا ہے۔اور یہی آپ کی جماعت کا کام ہے۔پس اس طرف ہمیں توجہ کرنی چاہئے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : میں ہمیشہ تعجب کی نگہ سے دیکھتا ہوں کہ یہ عربی نبی جس کا نام محمد ہے صلی اللہ علیہ وسلم ” ( ہزار ہزار درود اور سلام اُس پر ) یہ کس عالی مرتبہ کا نبی ہے۔اُس کے عالی مقام کا انتہاء معلوم نہیں ہوسکتا اور اس کی تاثیر قدسی کا اندازہ کرنا انسان کا کام نہیں۔افسوس کہ جیسا حق شناخت کا ہے اُس کے مرتبہ کو شناخت نہیں کیا گیا۔وہ توحید جو دُنیا سے گم ہو چکی تھی وہی ایک پہلوان ہے جو دوبارہ اُس کو دُنیا میں لا یا۔اُس نے خدا سے