خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 59 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 59

خطبات مسرور جلد 11 59 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 25 جنوری 2013ء بے چینی اس خبر کو سن کر بہت ترقی کر گئی۔( بہت بڑھ گئی ) وہ برداشت نہ کر سکتے تھے کہ جو پیشگوئی اسلامی فتح کے نشان کے طور پر کی گئی ہے وہ پوری ہونے سے قاصر رہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اعداء خوش تھے لیکن میرے والد صاحب کے دل پر غم کا ایک پہاڑ ٹوٹ پڑا تھا۔اور وہ دعاؤں میں لگ گئے۔اُسی رات خدائے کریم و حکیم نے خواب میں اُن کو ایک نظارہ دکھلایا۔وہ کیادیکھتے ہیں کہ ایک شکل ہے جو انسانی وجود معلوم ہوتا ہے۔اُس کے منہ پر بالخصوص اور باقی سارے جسم پر بالعموم کثرت کے ساتھ گھاس پھوس اور گرد و غبار پڑا ہوا ہے، اُس کا چہرہ بالکل نظر نہیں آتا۔اور باقی جسم سے بھی اُس کی شناخت ناممکن ہو رہی ہے۔ایک اور شخص ہے جس کی پیٹھ میرے والد صاحب کی طرف کو ہے لیکن اُس کا منہ اس گردوغبار سے ڈھکے ہوئے وجود کی طرف ہے۔وہ نہایت احتیاط اور محنت اور محبت کے ساتھ ایک ایک کر کے اُس دوسرے شخص کے وجود پر سے تنکے اپنے ہاتھوں سے چن چن کر تار رہا ہے۔کچھ وقت کے بعد وہ تمام تنکوں کو اٹھا کر پھینک دیتا ہے۔اور گردوغبار سے اُس کے جسم کو صاف کر دیتا ہے۔اور جو نہی کہ وہ تنکے وغیرہ سب اُتر کر گر جاتے ہیں۔اُن کے نیچے سے آفتاب کی طرح ایک ایسا روشن چہرہ نکلتا ہے جس کو دیکھنے کی آنکھیں تاب نہیں لاسکتیں۔اُسی وقت خواب میں ہی تفہیم ہوتی ہے کہ یہ مقدس انسان جس کے جسم مطہر سے تنکے دور کئے گئے ہیں، وہ سید نا حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور تنکوں کو دور کرنے والے صاحب سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہیں۔رات کو یہ نظارہ دیکھا۔صبح ہوتے ہی معاندینِ سلسلہ اکٹھے ہو کر پھر آئے اور کہنے لگے کہ دیکھئے صاحب، یہ کل آپ کیا کہہ رہے تھے۔کیا آپ کو معلوم ہے کہ آتھم ابھی زندہ ہے، مرانہیں اور آپ کے مرزا کی پیشگوئی غلط ثابت ہوئی۔میرے والد صاحب نے کہا کہ تم کو جو خبر ملی ہے وہ غلط ہے۔آتھم یقینا زندہ نہیں ہوگا اور اگر وہ زندہ ہے تو وہ اپنے رشتہ داروں اور اپنے دینی بھائیوں کے لئے ضرور مر چکا ہے۔اُس نے ان باتوں سے اگر تو بہ نہیں کی تھی تو بہر حال دوبارہ اُس کا اظہار نہیں کیا۔جب تک تمام باتوں کی حقیقت نہ کھل جائے اپنے شکوک وا ابہامات کو خدا کے حوالے کریں۔رات جو میں نے نظارہ دیکھا ہے اگر تم بھی وہ دیکھ لیتے تو پھر تمہیں پتہ لگتا کہ یہ شخص جس کے خلاف تم لوگ زہر اگل رہے ہو کس پایہ کا انسان ہے۔میں نے تو جب سے وہ خواب کا نظارہ دیکھا ہے اس سے میری طبیعت پر یہ اثر ہے کہ بہر حال یہ نشان اس طرز سے پورا ہوکر رہے گا کہ دنیا کو اپنی شوکت دکھا کر رہے گا۔پھر اور بھی سینکڑوں ہزاروں نشان سید نا حضرت مرزا صاحب کے وجود سے ظاہر ہوں گے جو دشمنانِ اسلام کی پیدا کردہ تمام روکوں کو توڑ کر رکھ دیں گے۔(ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ غیر مطبوعہ رجسٹر نمبر 11 صفحہ 156-156 الف - از روایات حضرت ڈاکٹر محمد طفیل خاں صاحب)