خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 58
خطبات مسرور جلد 11 58 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 25 جنوری 2013ء کہ میں نے سجدے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے۔آپ فوجی لباس میں ہیں۔ہاتھ میں تلوار ہے اور بھاگے بھاگے جارہے ہیں۔میں نے عرض کی کہ حضور کیا بات ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ مرزا غلام احمد کی آج تلاشی ہوتی ہے۔میں قادیان اُن کی حفاظت کے لئے جار ہا ہوں۔(ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ غیر مطبوعہ جلد 9 صفحه 242 از روایات حضرت سید محمد شاہ صاحب ) حضرت امیر خان صاحب فرماتے ہیں کہ 31 جنوری 1915ء کو میں نے خواب میں بادشاہوں کو احمد یوں سے مخاطب ہو کر کہتے سنا کہ اب ہم بادشاہی نہیں کر سکتے اور بادشاہی احمد یوں کو دیتے ہیں۔مگر احمدیوں کو چاہئے کہ بذریعہ تبلیغ کے پہلے عوام الناس کو اپنا ہم خیال بنالیں۔پھر یہ کام بآسانی ہو سکے گا۔اور پھر میں نے اسی بنا پر ( کہتے ہیں میں نے ) خواب میں ہی ایک ہندؤوں کے گاؤں جا کر تبلیغ کی اور اوتاروں کے حالات اور نزول عذاب کے اسباب بیان کئے اور تمثلاً کہا کہ دیکھو کرشن علیہ السلام کے وقت میں کیسی خطرناک جنگ ہوئی تھی اور عذاب آیا تھا۔(ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ غیر مطبوعہ جلد 6 صفحه 150 از روایات حضرت امیر خان صاحب) پس یہ جو بات ہے یہ آج بھی قائم ہے کہ حکومتیں ملنی ہیں۔تبلیغ کے ذریعہ سے اور دعاؤں کے ذریعہ سے فتوحات ہونی ہیں۔حضرت ڈاکٹر محمد طفیل خان صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بیعت 1896ء کی ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ جنگ مقدس کے بعد ( جو عیسائی سے جنگ تھی اور Debate ہوئی تھی ) جو ہمقام امرتسر مسیح صاحبان اور سید نا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے درمیان تحریری مباحثات کے رنگ میں واقعہ ہوا تھا۔میرے والد مکرم کے پاس ایک جھمگٹا رہنے لگا اور روزمرہ اس کے متعلق گفتگو ہوتی رہتی۔اس مباحثے کے اختتام پر حضور نے عبداللہ آتھم کے متعلق ایک پیشگوئی فرمائی تھی۔جب اس پیشگوئی کی مقررہ میعاد میں صرف دو تین روز باقی رہ گئے تو مخالفین نے کہنا شروع کیا کہ یہ سب ڈھکوسلے ہیں۔بھلا کس طرح ہوسکتا ہے کہ ڈپٹی آتھم ایسا صاحب اختیار آدمی جو اپنی حفاظت کے لئے ہر قسم کے ضروری سامان نہایت آسانی سے مہیا کر سکتا ہے اور پولیس کا ایک دستہ اپنے پہرے کے لئے مقرر کرا سکتا ہے، کسی کی سازش کا نشانہ بن سکے۔میرے والد صاحب کو یہ باتیں سخت ناگوار گزرتی تھیں اور اُن لوگوں کے طنزیہ فقروں کے جواب میں وہ کہہ اُٹھتے کہ میعاد پیشگوئی کے پورا ہو جانے سے پہلے کوئی رائے زنی کرنا سخت بے با کی ہے۔ہمارا یقین ہے کہ اُس دن آفتاب غروب نہ ہوگا جبتک کہ اسلامی فتح کے نشان میں یہ پیشگوئی اپنے اصلی روپ میں پوری نہ ہولے گی۔ایک دن باقی رہ گیا پھر خبر آئی کہ ابھی آتھم زندہ ہے۔کہتے ہیں میرے والد صاحب کی