خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 638
خطبات مسرور جلد 11 638 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 15 نومبر 2013ء کے ذریعہ سے پڑھا جاتا ہے۔پھر manukau courier ہے۔یہ Auckland کا اخبار ہے، اخبار تو انہتر ہزار کی تعداد میں شائع ہوتا ہے لیکن ایک لاکھ چورانوے ہزار اس کے پڑھنے والے ہیں۔waikato times جو ہے اس کے بھی پڑھنے والے تقریباً چھیانوے ہزار ہیں۔آن لائن میڈیا جو ہے، ویب سائٹ سکوپ (Website scoop) یہ ملک کی مشہور ترین ویب سائٹ ہے۔اس کو ساڑھے چار لاکھ کے قریب لوگ وزٹ کرتے ہیں۔اس پر یہ خبر آئی اور مسجد کے افتتاح کے حوالے سے بھی خبر تھی۔پھر جاپان کا پرنٹ میڈیا ہے۔Asahi newspaper۔آسا ہی ایک بڑا اخبار ہے،اس کی سرکولیشن دو کروڑ سے زائد ہے۔اس نے بھی میرے دورے کے حوالے سے میری تصویر دے کے خبر لگائی اور پھر اس میں یہ لکھا کہ اسلام کے ایک فرقہ احمدیت کے لیڈر لندن سے آئے ہیں۔اور پہلی مسجد کے قیام کا اعلان کیا ہے جو پہلے ایک سپورٹس کمپلیکس تھا۔اور پھر لکھا کہ امام جماعت نے کہا کہ مذہب یا قومیت سے الگ ہو کر ہر شخص اس مسجد میں آ سکتا ہے۔بہر حال خلاصہ یہ کہ جن جرنلسٹس سے جو مختلف انٹر ویو ہوئے اور جو باتیں ہوتی رہیں اُن میں اسلام کی خوبصورت تعلیم تو بیان ہوتی ہی ہے، اس کے علاوہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بعثت کا مقصد بھی بیان ہوا۔اسلام میں جنگوں کا تصور کے بارے میں باتیں ہوئیں اور کس طرح جماعت احمدیہ تبلیغ کرتی ہے۔مسلمان ممالک میں بدامنی اور اُس کے حل کے بارے میں باتیں ہوئیں۔دنیا میں حقیقی امن کس طرح قائم کیا جا سکتا ہے، اس بارے میں باتیں ہوئیں۔حضرت عیسی علیہ الصلوۃ والسلام کا کیا مقام ہے اس بارے میں باتیں ہوئیں۔خلافت اور جماعت کا رشتہ کیا ہے اس بارے میں باتیں ہوئیں۔پس مختلف مضامین کے لحاظ سے اس میں ایک بڑا وسیع تعارف جماعت کا ہوا۔اور ان سارے ٹی وی چینل اور ریڈیو اور اخباروں کو اگر جمع کیا جائے تو ان کے اپنے اندازے کے مطابق ان کے سننے والے، دیکھنے والے، پڑھنے والے اس ریجن میں تقریباً ساڑھے تین کروڑ لوگ ہیں جن تک یہ پیغام پہنچا ہے۔پس اللہ تعالیٰ ہر علاقے میں اسلام کی خوبصورت تعلیم کا جو تعارف کروارہا ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بارے میں جو دنیا کو پتہ لگ رہا ہے، اسلام کی حقیقی اور خوبصورت تعلیم جو پیش ہورہی ہے، وہ حضرت مسیح موعود علیہ اسلام کا جو یہ ارشاد ہے اس کے مطابق ہے کہ یہ زمانہ تکمیل اشاعت ہدایت کا زمانہ ہے۔(ماخوذ از ملفوظات جلد دوم - صفحہ 361-362 مطبوعہ ربوہ )