خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 639
خطبات مسرور جلد 11 639 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 15 نومبر 2013ء اور یہ جو میڈیا ہماری کوششوں سے بڑھ کر اتنا زیادہ کوریج دیتا ہے تو یہ اس بات پر اللہ تعالیٰ کی فعلی شہادت ہے۔ہمارے لئے تو ایسا ممکن نہیں تھا کہ اتنے وسیع طور پر نہ صرف ان چار ممالک میں بلکہ ان کے ذریعہ باقی چھیالیس ممالک میں بھی جس میں پاکستان بھی شامل ہے، احمدیت کا اور اسلام کا تعارف پہنچا سکتے اور پیغام پہنچا سکتے ، کیونکہ وہاں سے بھی مجھے ایک خبر اس انٹرویو کے حوالے سے آئی تھی جو اس میں شائع ہوا تھا۔پس اگر عقل ہو تو یہی ایک بات جو ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت کے ثبوت کے لئے کافی ہے۔" حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: يد عاجز بحكم وَأَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَين (الفعلی :12) اس بات کے اظہار میں کچھ مضائقہ نہیں دیکھتا کہ خداوند کریم و رحیم نے محض فضل و کرم سے اُن تمام امور سے اس عاجز کو حصہ وافرہ دیا ہے اور اس ناکارہ کو خالی ہاتھ نہیں بھیجا اور نہ بغیر نشانوں کے مامور کیا بلکہ یہ تمام نشان دیئے ہیں جو ظاہر ہورہے ہیں اور ہوں گے اور خدائے تعالیٰ جب تک کھلے طور پر حجت قائم نہ کر لے تب تک ان نشانوں کو ظاہر کرتا جائے گا۔“ (ازالہ اوہام ، روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 338-339) اللہ تعالیٰ ہمیں بھی اپنی ذمہ داریاں سمجھنے اور اُن کو نبھانے کی توفیق عطا فرمائے۔کچھ افسوسناک خبریں بھی ہیں۔تین جنازے میں ابھی نمازوں کے بعد پڑھاؤں گا جس میں پہلا جنازہ جو ہے ہمارے شہید بھائی مکرم بشیر احمد صاحب کیانی کا ہے جو مکرم عبد الغفور صاحب کیانی کے بیٹے تھے۔اورنگی ٹاؤن کراچی میں یکم نومبر کو ان کی شہادت ہوئی ہے۔اپنے ہمسائے محمد اکرم قریشی صاحب کے گیارہ سالہ بیٹے کے ساتھ یہ جمعہ کے لئے جارہے تھے۔ایک بجے کے قریب گھر سے نکلے۔اورنگی ٹاؤن کی مسجد بیت الحفظ کی طرف پیدل ہی جارہے تھے، کیونکہ تقریباً دوکلومیٹر کے فاصلے پر ان کا گھر ہے۔جب مسجد کے قریب پہنچ چکے تھے تو پیچھے سے ایک موٹر سائیکل پر دو نامعلوم حملہ آوروں نے آ کر آپ پر فائرنگ کردی۔شدید زخمی ہو گئے۔ایک گولی ان کو کنپٹی پر لگی ، دو گولیاں سینے میں لگیں۔ساتھ جانے والے بچے کی ٹانگ کی پنڈلی میں ایک گولی لگی جو آر پار گزر گئی۔بہر حال فوری طور پر ہسپتال لے جایا گیا لیکن وہاں پہنچ کر بشیر کیانی صاحب کی شہادت ہو گئی۔اِنَّا لِلهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ۔حملہ آوروں کی فائرنگ سے عزیزم محمد احمد واجد کے علاوہ جس کی ٹانگ میں گولی لگی تھی ، وہاں بازار میں کھڑے دوغیر از جماعت بھی زخمی ہو گئے۔محمد احمد واجد جو بچہ ہے اُس کی مرہم پٹی وغیرہ کے بعد ہسپتال سے فارغ کر دیا گیا ہے، اور اب بہتر