خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 637
خطبات مسرور جلد 11 637 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 15 نومبر 2013ء Rakyat ہیں۔کوئی ساٹھ ستر ہزار کے قریب ان کی سرکولیشن ہے۔پھر ایک اور اخبار ہے اُس کی کافی سرکولیشن ہے اُس میں بھی شائع کیا۔آسٹریلیا میں اصل الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا نے کوریج دی ہے۔اُن کا جو نیشنل ٹی وی اے بی سی ہے اور پھر National Radio ABC انہوں نے بھی انٹرو یولیا، اُس کی خبر بھی دی، انہوں نے سوالوں کے میرے کافی لمبے جواب بھی لکھ دیئے ، اور یہ سارے ملک میں سنا جاتا ہے ریڈیو بھی اور ٹی وی بھی دیکھا جاتا ہے۔بلکہ ریڈ یو پیسیفک جزائر میں بھی سنا جاتا ہے۔اور ڈیڑھ سے دوملین تک لوگ اس کو سنتے ہیں۔ABC News آسٹریلیا کا ایک نیشنل نیوز چینل ہے۔46 ممالک میں اس کی نشریات سنی جاتی ہیں۔اور دس ملین سے اوپر لوگ اس کے سننے والے ہیں۔اس چینل میں جنہوں نے انٹر ویولیا، وہ کہنے لگے کہ یہ کیونکہ آسٹریلیا سے باہر بھی سنا جاتا ہے تو تمہارے اس انٹرویو کا بہت اچھا فیڈ بیک ( feed back) مجھے ملا ہے اور میں حیران ہوں کہ دنیا میں لوگوں نے اتنی زیادہ توجہ دی ہے۔پھر انہوں نے کہا کہ مجھے خوشی ہوگی اگر آئندہ بھی تم آؤ تو میں کچھ زیادہ وقت لے کے مزید انٹرویو لینا چاہتا ہوں۔آسٹریلیا کے ٹی وی چنیل اے بی سی کے مشہور اور غیر معمولی اہمیت کے حامل پروگرام نیوز لائن میں یہ انٹر ویو آیا تھا۔جیسا کہ میں نے کہا، 46 ممالک میں سنا جاتا ہے۔جو انٹرویو لینے والے ہیں یہ وہاں کے میڈیا میں مشہور شخص ہیں جو مختلف ممالک کے صدران اور وزرائے اعظم جب آسٹریلیا کا وزٹ کرتے ہیں تو اُن کے انٹرویو لیتے ہیں۔اور ان کے پروگراموں کو بڑی اہمیت سے دیکھا اور سنا جاتا ہے۔اس کو بھی دس سے پندرہ ملین لوگوں نے سنا۔پھر نیوزی لینڈ کا جو میڈیا ہے اُس کا جائزہ یہ ہے کہ ماؤری ٹی وی ، Te Karere ٹی وی ون پر دکھایا جاتا ہے، اس کے پروگرام میں ماؤری بادشاہ کی طرف سے جو استقبال ہوا تھا اُس کو کوریج دی گئی۔سارے ملک میں یہ پروگرام دکھایا جاتا ہے۔ٹی وی ون ملک کا پہلے نمبر پر آنے والی خبروں اور حالات حاضرہ کا چینل ہے۔روزانہ چھ لاکھ بیالیس ہزار کے قریب اس کو دیکھنے والے لوگ ہیں۔مسجد بیت المقیت کی رپورٹ انہوں نے دکھائی۔ماؤری بادشاہ کی طرف سے جو استقبالیہ تھا وہ دکھایا گیا۔ریڈیو پر بھی اس کی خبر نشر ہوئی۔اخباروں نے مسجد کے حوالے سے اور کچھ اُس میں میرے دورے کے حوالے سے بھی خبریں شائع کیں۔ان میں Sunday Star ملک کا بڑا اخبار ہے، اس کی سرکولیشن ایک لاکھ ساٹھ ہزار ہے لیکن پانچ لاکھ سے اوپر اس کو پڑھنے والے ہیں، باقی جو میرا خیال ہے کہ انٹرنیٹ