خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 613
خطبات مسرور جلد 11 613 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 8 نومبر 2013ء السلام نے فرمایا کہ تم لوگوں کی یہ حالت دیکھ کے میری یہ حالت ہے کہ اپنے آپ کو ہلاک نہ کرلوں کہ کیوں نہیں مومن ہوتے ؟ اس کا مطلب غیروں کے لئے تو بے شک یہ ہے کہ وہ ایمان کیوں نہیں لاتے لیکن یہاں آپ کو اپنوں کے لئے فکر ہے اور یہ فکر ہے کہ وہ مقام حاصل کیوں نہیں کرتے جو ایک مومن کے لئے ضروری ہے۔قرآن کریم نے ایسے ماننے والوں کے لئے یہ فرمایا ہے کہ یہ تو کہو کہ ہم اسلام لائے، فرمانبرداری اختیار کی ، نظام جماعت میں شامل ہو گئے، یہ مان لیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین ہیں۔یہ مانتے ہیں کہ آنے والا مسیح موعود اور مہدی موعود جس کی پیشگوئی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی تھی وہ آ گیا ہے۔اور ہم نے اس کی بیعت کر لی ہے اور اُس میں شامل ہو گئے لیکن ایمان ابھی کامل طور پر تم میں پیدا نہیں ہوا۔ایمان کے لئے بہت سی شرائط ہیں جن کو پورا کرنا ضروری ہے۔مثلاً مومن سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ سے محبت کرتا ہے۔اور اللہ تعالیٰ سے محبت کرنے کا مطلب ہے کہ ہر دنیاوی چیز اور رشتے کو خدا تعالیٰ کے مقابل پر اہمیت نہ دینا، اللہ تعالیٰ کے احکامات پر عمل کرنا۔اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں متعدد جگہ ایمان کے ساتھ اعمالِ صالحہ کی شرط رکھی ہے۔یعنی نیک عمل بھی ہوں اور موقع اور مناسبت کے لحاظ سے بھی ہوں اور اللہ تعالیٰ کی رضا کو حاصل کرنے کو مد نظر رکھتے ہوئے بھی ہوں۔اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو جو حکم دیئے ہیں اُن میں عبادت کا حق ادا کرنے کے ساتھ جو انتہائی ضروری ہے فرمایا مومن وہ ہے جو اصلاح بین الناس کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لئے آپس میں اصلاح کی کوشش کرتے ہیں، فساد اور فتنے نہیں ڈالتے۔ان کے مشورے دنیا کی بھلائی کے لئے ہیں، نقصان پہنچانے کے لئے نہیں۔مومن وہ اعلیٰ قوم ہیں جو نیکی کی ہدایت کرتے ہیں اور برائیوں سے روکتے ہیں۔مومن وہ ہیں جو امانتوں کا حق ادا کرنے والے ہیں۔جو اپنے عہد کی پابندی کرنے والے ہیں۔جو سچائی پر قائم رہنے والے ہیں۔جو قول سدید کے اس قدر پابند ہیں کہ کوئی پیچ دار بات ان کے منہ سے نہیں نکلتی۔اپنوں کے خلاف بھی گواہی دینی پڑے تو دیتے ہیں۔وہ ایک دوسرے کی خاطر قربانی کے جذبے سے سرشار ہیں۔صحابہ نے ایک دوسرے کی خاطر قربانی کا ایسا نمونہ دکھایا کہ اپنی دولت ، گھر کا سامان، جائیداد غرض کہ ہر چیز ایک دوسرے کے لئے قربان کرنے کے لئے تیار ہو گئے۔پھر مومن کی یہ نشانی ہے کہ حسنِ ظن رکھتے ہیں، ہر وقت بدظنیاں نہیں کر لیتے۔سنی سنائی باتوں پر یقین کر کے ایک دوسرے کے خلاف دل میں کینے اور بغض نہیں بھر لیتے۔اگر آپ لوگ، ہر ایک ہر فرد جماعت اس ایک بات پر ہی سو فیصد عمل کرنے لگ جائے تو یہاں ترقی کی رفتار بھی کئی گنا بڑھ سکتی ہے۔