خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 612
خطبات مسرور جلد 11 612 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 8 نومبر 2013ء حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک جگہ فرماتے ہیں کہ : تم دیکھتے ہو کہ میں بیعت میں یہ اقرار لیتا ہوں کہ دین کو دنیا پر مقدم رکھوں گا۔یہ اس لیے تاکہ میں دیکھوں کہ بیعت کنندہ اس پر کیا عمل کرتا ہے۔“ ( ملفوظات جلد 1 صفحہ 350۔مطبوعہ ربوہ ) آپ نے فرمایا کہ : ” اگر کوئی دنیاوی کام ہو تو اس کے لئے تم بڑی محنت کرتے ہو تب جا کر اس میں کامیابی حاصل ہوتی ہے لیکن دین کے لئے محنت کرنے کا درد نہیں ہے، وہ کوشش نہیں ہے جس سے ہر وقت خدا تعالیٰ سامنے رہے اور اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے احکامات کے مطابق ڈھالنے اور ان پر عمل کرنے کی کوشش رہے۔(ماخوذ از ملفوظات جلد 5 صفحہ 329۔مطبوعہ ربوہ ) آپ فرماتے ہیں ” مجھے سوز و گداز رہتا ہے کہ جماعت میں ایک پاک تبدیلی پیدا ہو۔جو نقشہ اپنی جماعت کی پاک تبدیلی کا میرے دل میں ہے وہ ابھی پیدا نہیں ہوا اور اس حالت کو دیکھ کر میری وہی حالت ہے۔لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَفْسَكَ أَلَّا يَكُونُوا مُؤْمِنِينَ (الشعراء:4) یعنی تو شاید اپنی جان کو ہلاکت میں ڈالے گا کہ وہ کیوں نہیں مؤمن ہوتے۔فرمایا کہ ”میں نہیں چاہتا کہ چند الفاظ طوطے کی طرح بیعت کے وقت رٹ لئے جاویں، اس سے کچھ فائدہ نہیں۔تزکیہ نفس کا علم حاصل کرو کہ ضرورت اسی کی ہے۔“ ( ملفوظات جلد 1 صفحہ 351-352 - مطبوعہ ربوہ ) اپنے نفس کو کس طرح پاک کرنا ہے یہ جاننے کی کوشش کرو۔آپ نے بیعت میں آنے کے بعد کی اصل غرض کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ: تم اپنے اندر ایک تبدیلی پیدا کرو اور بالکل ایک نئے انسان بن جاؤ۔اس لئے ہر ایک کو تم میں 66 سے ضروری ہے کہ وہ اس راز کو سمجھے اور ایسی تبدیلی کرے کہ وہ کہہ سکے کہ میں اور ہوں۔“ ( ملفوظات جلد 1 صفحہ 352 - مطبوعہ ربوہ ) یعنی جو پہلے تھا، وہ نہیں رہا۔پس یہ درد ہے جو ہمیں محسوس کرنے کی ضرورت ہے۔یہ الفاظ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اُن لوگوں کے لئے کہے جو آپ کی صحبت سے فیض یاب ہورہے تھے۔اگر ان کا معیار حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خواہش کے مطابق نہیں تھا اور کمیاں تھیں تو ہمارے زمانے میں تو یہ کمیاں کئی گنا بڑھ چکی ہیں اور ان کو دُور کرنے کے لئے ہمیں کوشش بھی کئی گنا بڑھ کر کرنی ہوگی۔تبھی ہم آپ کے درد کو ہلکا کرنے والے بن سکیں گے۔اب یہ جو آپ علیہ