خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 614
خطبات مسرور جلد 11 614 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 8 نومبر 2013ء بیویوں کے ساتھ حسنِ سلوک کرتے ہیں، یہ بھی اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔اگر یہاں جا پانی عورتوں سے جنہوں نے شادیاں کی ہیں ہر ایک بیویوں سے اسلامی تعلیم کے مطابق حسنِ سلوک کرنے لگ جائے تو یہ بات اُن کے سسرالی عزیزوں میں تبلیغ کا ذریعہ بن جائے گی۔پھر مومن ایک دوسرے کی غلطیوں کو معاف کرتے ہیں اور صرف نظر کرنے والے ہیں۔پھر مومن عاجزی دکھانے والے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس کو اپنے ایک شعر میں یوں بیان فرمایا ہے کہ: بدتر بنو ہر ایک سے اپنے خیال میں شاید اسی سے دخل ہو دار الوصال میں (براہین احمدیہ حصہ پنجم روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 18 ) عاجزی دکھاؤ گے ہر ایک سے کم تر اپنے آپ کو سمجھو گے تبھی اللہ تعالیٰ کے پیار کو حاصل کرنے والے بن سکو گے۔ہے۔پس اگر اللہ تعالیٰ کا قرب چاہتے ہیں تو عاجزی شرط ہے۔تکبر اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں عہدیدار بھی اپنے دائرے میں عاجزی اختیار کریں اور افراد جماعت بھی عاجزی اختیار کریں۔غصہ کو دبانے والے ہوں۔یہ ایک مومن کی نشانی ہے۔اپنے عہدوں کو پورا کریں جیسا کہ پہلے بھی میں کہہ چکا ہوں کہ اللہ تعالیٰ عہدوں کے بارے میں پوچھے گا۔اور ہم نے اس زمانے میں جو عہد بیعت کیا ہے اس کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے اور اسے پورا کرنے اور نبھانے کی ضرورت ہے اور یہ اس صورت میں ہوگا جب ہم ہر نیک عمل بجالانے والے ہوں گے۔اپنی زندگیوں کو اللہ تعالیٰ کے احکامات کے مطابق ڈھالنے والے ہوں گے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جو جماعت کا مقصد بیان فرمایا ہے اُس کے مطابق چلنے والے ہوں گے۔پس میں اس وقت زیادہ تفصیل میں تو یہ احکامات بیان نہیں کرسکتا، بے شما را حکامات ہیں۔ہر ایک اپنے جائزے لے کہ کیا وہ قرآنی احکامات کے مطابق زندگی گزارنے والا ہے؟ کیا وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بیعت میں آکر آپ کی خواہش کو پورا کرنے والا ہے؟ کیا اس کا ہر عمل خدا تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے ہے؟ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا جو شعر میں نے پڑھا ہے۔کہ بدتر بنو ہر ایک سے اپنے خیال میں یہ حالت اگر ہم میں سے ہر ایک پر طاری ہو گی تو تبھی ہم دوسروں کو معاف کرنا بھی سیکھیں گے، بدظنیاں کرنے سے بھی بچیں گے اور جماعت کی