خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 582
خطبات مسرور جلد 11 اس کا ایک شعر یہ ہے کہ 582 میری رات دن بس یہی اک صدا ہے کہ اس عالم کون کا اک خدا ہے خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 18 اکتوبر 2013ء بہر حال حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کی اولاد میں ، خاص طور پر لڑکیوں میں،ساروں میں میں نے یہ دیکھا ہے کہ اُن کا اللہ تعالیٰ سے بڑا قریبی تعلق تھا اور نمازوں میں با قاعدگی اور نہ صرف با قاعدگی بلکہ بڑے الحاح سے اور توجہ سے نماز پڑھنے والے، ساری لمبی نمازیں پڑھنے والی ہیں۔مکرم میر محمود احمد صاحب ناصر کیونکہ مبلغ بھی رہے ہیں، واقف زندگی ہیں ، پین میں بھی مبلغ رہے اور امریکہ میں بھی آپ کو ان کے ساتھ رہنے کا موقع ملا اور مبلغ کی بیوی ہونے کا جو حق ہوتا ہے وہ انہوں نے ادا کیا۔سپین میں مسجد بشارت جب بنی ہے اُس وقت یہ لوگ وہیں تھے۔اور تیاری کے کام اور کھانے پکانے کے کاموں میں اُس وقت انہوں نے بڑا کام کیا، با قاعدہ انتظام نہیں تھا، حضرت خلیفہ امسیح الرابع نے بھی ذکر کیا کہ انہوں نے بتایا کہ جس رات رات کو تین بجے کام سے فارغ ہو کر سوتے تھے اُس وقت بڑا خوش ہوتے تھے کہ آج اللہ تعالیٰ نے کچھ سونے کا موقع دیا۔(ماخوذ از خطبات طاہر جلد اول صفحہ 139۔خطبہ جمعہ فرمودہ 10 رستمبر 1982ء۔مطبوعہ ربوہ ) بڑی لمبی دیر راتوں تک انہوں نے کام کئے اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے وہ تقریب جو مسجد بشارت میں تھی بڑی کامیاب بھی ہوئی۔مہمانوں کا اور خلیفہ امسیح الرابع کا کھانا بھی یہ خود اپنے ساتھ اپنی نگرانی میں پکواتی تھیں، کیونکہ با قاعدہ لنگر کا انتظام نہیں تھا۔امریکہ میں کیلیفورنیا میں لمبا عرصہ رہیں، وہاں بھی اُس وقت جماعت کے حالات ایسے تھے کہ واشنگ مشین وغیرہ ایسی چیزیں کوئی نہیں تھیں تو کپڑے وغیرہ دھونے، باقی گھر کے کام کرنے ، اگر کوئی مددگار مدد کے لئے offer کرتا تھا تو نہیں مانتی تھیں۔گھر کے کام خود کرنے کی عادت تھی۔لجنہ مرکز یہ پاکستان میں بھی یہ مختلف عہدوں پر سیکرٹری کے طور پر خدمات بجالاتی رہی ہیں۔خلافت سے بڑا وفا کا تعلق تھا۔اور میری خالہ تھیں لیکن خلافت کے بعد جو ہمیشہ تعلق تھا، احترام اور محبت اور پیار اور عزت کا بہت بڑھ گیا تھا۔بلکہ شروع میں جب پہلی دفعہ لندن آئی ہیں تو کسی کو کہا کہ میں تو اب کھل کے بات نہیں کر سکتی۔اب بھی پچھلے سال بھی جلسے پر آئی ہوئی تھیں، کافی بیمار تھیں لیکن پھر بھی جلسے پرلندن آئیں اور اُن سے ملاقات ہوئی۔ان کے چار بیٹے اور ایک بیٹی ہیں۔جیسا کہ میں نے بتایا خاوند مکرم میر محمود احمد صاحب ناصر اور بیٹوں میں دو بیٹے واقف زندگی ہیں۔ڈاکٹر غلام احمد فرخ صاحب