خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 581
خطبات مسرور جلد 11 581 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 18 اکتوبر 2013ء احساس دلانے کے لئے ہیں۔مجھے علم ہے کہ آسٹریلیا کے چھپائی وغیرہ کے جو اخراجات ہیں شاید جماعت آسٹریلیا اس وقت اُن کی متحمل نہ ہو سکے۔پانچ دس سینٹ (Cent) میں بھی اگر ایک لٹریچر چھپتا ہے، اگر Bulk میں چھوائیں تو اتنی تعداد پر اتنی ہی Cost آتی ہے، تو دس ملین کے لئے کم از کم پانچ لاکھ ڈالر چاہتے ہوں گے۔لیکن بہر حال اگر لاکھوں میں بھی شائع کئے جائیں تو بہت کام ہوسکتا ہے اور یہ کئے جاسکتے ہیں ایسا کوئی مسئلہ نہیں ہے۔باقی جیسا کہ میں نے کہا کہ پریس جو ہے، اُس سے رابطے ہوں تو وہی کام کرتا ہے۔بلڈ ڈونیشن وغیرہ کا منصوبہ ہے، میں نے سنا ہے یہ بھی آپ کرتے ہیں لیکن اس کو اسلام کے نام سے منسوب کریں، تو اسلام کی امن کی تعلیم بھی دنیا پر واضح ہو۔انشاء اللہ پھر توجہ پیدا ہوگی اور پھر مزید راستے کھلیں گے۔اور جیسا کہ میں نے ذکر کیا ہے اس کام کے لئے سب سے بڑھ کر یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تمہارے عمل صالح ہوں۔نیکیوں میں بڑھنے والے ہوں اور خدا تعالیٰ پر ایمان بھی کامل ہو۔دعاؤں کی طرف توجہ ہو۔اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے اُن بندوں میں شامل فرمائے جو عمل صالح کرنے والے بھی ہیں اور نیکیوں اور فرمانبرداریوں میں بڑھنے والے بھی ہیں اور اُس کی رضا کے مطابق ہم کام کرنے والے بھی ہوں اور ان کے نیک نتائج بھی اللہ تعالیٰ پیدا فرمائے ، اللہ کرے ہماری تعداد میں اضافہ یہاں کے مقامی لوگوں سے بھی ہو۔نمازوں کے بعد میں ایک جنازہ غائب بھی پڑھاؤں گا جو محترمہ صاحبزادی امتہ المتین صاحبہ کا ہے، حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کی بیٹی اور مکرم سید میرمحموداحمد ناصر صاحب کی اہلیہ تھیں۔14 اکتو بر کی رات کو تقریباً بارہ بجے ربوہ میں ان کا انتقال ہوا ہے۔إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ پرسوں عید والے دن ان کی تدفین ہوئی تھی۔آپ قادیان میں 21 دسمبر 1936ء کو پیدا ہوئی تھیں اور قادیان میں دارا مسیح میں ان کی پیدائش ہوئی۔حضرت اماں جان اور خلیفہ ثانی نے اُس وقت ان کے لئے بڑی دعائیں کیں۔آپ حضرت سیدہ مریم صدیقہ صاحبہ کی بیٹی تھیں، حضرت مصلح موعودؓ کی اس اہلیہ سے یہی ایک اولاد تھی اور حضرت ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی نواسی تھیں۔حضرت ڈاکٹر میر اسماعیل صاحب حضرت خلیفہ المسیح الثانی کے ماموں بھی تھے۔حضرت مصلح موعودؓ نے اپنی اس بیٹی کے لئے کچھ نظمیں بھی لکھی تھیں جو کلام محمود میں اطفال الاحمدیہ کے ترانے کے نام سے شائع ہیں۔