خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 580 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 580

خطبات مسرور جلد 11 580 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 18 اکتوبر 2013ء چاہئیں اور ان کو ہمیشہ سامنے رکھنا چاہئے۔یہ فکر کی بات ہے۔کم از کم میرے لئے تو یہ بہت فکر کی بات ہے۔اسی طرح لوکل لوگوں کے علاوہ یعنی جو لوگ شروع میں یہاں آ کر آباد ہوئے ، جو اب اپنے آپ کو آسٹریلین کہتے ہیں، اُن کے علاوہ مقامی آبادی جو پہلے کی ہے، نیٹو (Native) ہیں ، اُن کے علاوہ بھی یہاں عرب اور دوسری قو میں بھی آباد ہوئی ہیں۔اُن میں بھی تبلیغ کی ضرورت ہے۔با قاعدہ plan کر کے پھر تبلیغ کی مہم کرنی چاہئے۔میں نے دیکھا ہے کہ آسٹریلین لوگوں میں سننے کا حوصلہ بھی ہے اور بات کرنا چاہتے ہیں اور خواہش کرتے ہیں۔اگر تعلقات بنا کر ، رابطے کر کے ان تک پہنچا جائے تو کچھ نہ کچھ سعید فطرت لوگ ضرور ایسے نکلیں گے جو حقیقی دین کو قبول کرنے والے ہوں گے۔ہر طبقے کے لوگوں تک اسلام کا امن اور محبت اور بھائی چارے کا پیغام پہنچانا ہمارا کام ہے۔میلبرن میں جو بعض لوگ مجھے ملے ، وہ احمد یوں کو تو جانتے ہیں جن کی دوستیاں ہیں لیکن اکثر اُن میں سے ایسے تھے جن کو اسلام کے حقیقی پیغام کا پتہ نہیں تھا۔وہ احمدیوں کو ایک تنظیم سمجھتے ہیں، اچھے اخلاق والے سمجھتے ہیں لیکن اسلام کا بنیادی پیغام اُن تک نہیں پہنچا ہوا۔پس اس طرف توجہ کی ضرورت ہے۔ایک مخلص دوست کو جلسہ پر انعام دیا گیا کہ باوجود معذوری کے انہوں نے اسلام کا امن کے پیغام کا جو فلائر تھا وہ میں ہزار کی تعداد میں تقسیم کیا۔اب آپ کہتے ہیں کہ پورے ملک میں آپ چار ہزار کے قریب ہیں، ویسے میرا خیال ہے اس سے زیادہ ہیں۔اگر اس سے نصف لوگ یعنی دو ہزار لوگ پانچ ہزار کی تعداد میں بھی فلائر تقسیم کرتے تو دس ملین تقسیم ہوسکتا تھا۔گویا آسٹریلیا کی آدھی آبادی جو ہے اُس تک اسلام کا امن کا پیغام پہنچ سکتا تھا اور اسلام کی جو صحیح تصویر ہے ایک سال میں پھیلائی جاسکتی تھی۔پھر تبلیغ کے لئے اگلا پمفلٹ تیار ہوتا ، بلکہ اس کا چوتھا حصہ بھی اگر ہم تقسیم کرتے ، بلکہ دسواں حصہ بھی تقسیم کرتے تو میڈیا کو توجہ پیدا ہو جاتی ہے، پھر اخبارات ہی اس پیغام کو اٹھا لیتے ہیں۔اور کئی ملکوں میں اس طرح ہوا ہے۔امریکہ جیسے ملک میں بھی اس طرح ہوا ہے۔اور باقی کام ان کے ذریعہ سے ہو جاتا ہے۔میں نے دیکھا ہے میڈیا سے تعلقات بیشک اچھے ہیں ، اور تو جہ تو ہے لیکن اس کو اسلام کا حقیقی پیغام پہنچانے کے لئے استعمال ہونا چاہئے۔یہاں بہت سے بڑی عمر کے لوگ بھی جو آئے ہوئے ہیں اور مختلف ملکوں میں بھی آئے ہوئے ہیں اُن کو بھی میں یہی کہتا ہوں اور یہاں بھی یہی کہوں گا کہ ان کے پاس کام بھی کوئی نہیں ہے، گھر میں فارغ بیٹھے ہیں، اپنا وقت وقف کریں اور پمفلٹ وغیرہ تقسیم کریں۔جماعت کا لٹریچر ہے، لے جائیں تقسیم کریں تبلیغ کریں۔یہ اعداد و شمار جو میں نے دیئے ہیں یہ صرف