خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 568 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 568

خطبات مسرور جلد 11 568 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 18 اکتوبر 2013ء جائیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے عبادی ، یعنی میرے بندے کی یوں وضاحت فرمائی ہے کہ وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ اور رسول پر ایمان لائے ہیں۔وہی عِبادِی میں شامل ہیں اور عِبَادِی میں شامل ہونے کی وجہ سے خدا تعالیٰ کے قریب ہیں۔اور وہ جو ایمان نہیں لاتے خدا تعالیٰ سے دور ہیں۔“ (ماخوذ از جنگ مقدس۔روحانی خزائن جلد 6 صفحہ 146) پس سچا عِبادی بننے کے لئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرے ہر حکم کو مانیں۔اپنے ایمانوں کو مضبوط کریں۔اور جب یہ کیفیت ہوگی تو ہر قسم کی بھلائیوں کو حاصل کرنے والے بن جائیں گے۔دعائیں قبول ہوں گی۔پس جب اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرے بندے وہی بات کریں، کہا بھی کریں اور کیا بھی کریں جو خدا تعالیٰ کو اچھی لگتی ہے تو پھر لازماً اپنے ایمان کو بڑھانا ہوگا۔اللہ تعالیٰ کے حکموں کی تلاش کرنی ہوگی۔اپنے عمل اس طرح ڈھالنے ہوں گے جو اللہ تعالیٰ کی نظر میں اچھے اور احسن ہیں اور خوبصورت ہیں۔یہ تو نہیں ہوسکتا کہ ہم عمل تو کچھ کر رہے ہوں اور باتیں کچھ اور ہوں۔ہمارے عمل تو اللہ تعالیٰ کے حکموں کے خلاف ہوں لیکن دوسروں کو اُس کے مطابق جو اللہ اور رسول کے حکم ہیں ہم نصیحت کر رہے ہوں۔اللہ تعالیٰ نے ایسے قول و فعل کے تضاد کو گناہ قراردیا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لِمَ تَقُولُونَ مَا لَا تَفْعَلُونَ (الصف: 3) کہ اے مومنو! تم وہ باتیں کیوں کہتے ہو جو تم کرتے نہیں۔كَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ الله اَنْ تَقُولُوا مَا لَا تَفْعَلُونَ (الصف: 4) کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک یہ بہت بڑا گناہ ہے کہ تم وہ کہو جو تم کرتے نہیں۔پس قول و فعل کا تضاد اللہ تعالیٰ کو انتہائی نا پسند ہے بلکہ گناہ ہے۔ایک طرف ایمان کا دعویٰ اور دوسری طرف دورنگی یہ دونوں جمع نہیں ہو سکتے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : تم میری بات سن رکھو اور خوب یاد کر لو کہ اگر انسان کی گفتگو سچے دل سے نہ ہو اور عملی طاقت اس میں نہ ہو تو وہ اثر انداز نہیں ہوتی۔“ ( ملفوظات جلد اول صفحہ 42-43 - مطبوعہ ربوہ ) یعنی سچی گفتگو بھی ہو اور جو گفتگو کر رہا ہے اس کا عمل بھی اس کے مطابق ہو، اگر نہیں تو پھر وہ فائدہ نہیں دیتی۔پس يَقُولُ الَّتِي هِيَ أَحْسَنُ یہ ہے کہ وہ بات کہو جو آحسن ہے اور کسی بندے کی تعریف کے مطابق آحسن نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی تعریف کے مطابق آحسن ہے۔نیکیوں کو پھیلانے والی ہے اور برائیوں سے روکنے والی ہے۔