خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 569 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 569

خطبات مسرور جلد 11 569 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 18 اکتوبر 2013ء ہر انسان اپنی پسند کی تعریف کر کے یہ نہیں کہہ سکتا کہ اس کے قول و فعل میں تضاد نہیں ہے اس لئے وہ مومن ہو گیا۔ایک شرابی یہ کہے کہ میں شراب پیتا ہوں اور تم بھی پی لو، جو میں کہتا ہوں وہ کرتا ہوں تو یہ نیکی نہیں ہے اور نہ ہی یہ احسن ہے بلکہ گناہ ہے۔یہاں اس معاشرے میں ہم دیکھتے ہیں آزادی کے نام پر کتنی بے حیائیاں کی جاتی ہیں اور کھلے عام کی جاتی ہیں اور ٹی وی اور انٹرنیٹ پر اور اخباروں میں ان بے حیائیوں کے اشتہار دیئے جاتے ہیں۔فیشن شو اور ڈریس شو کے نام پر ننگے لباس دکھائے جاتے ہیں۔تو بے شک ایسے لوگوں کے قول اور فعل ایک ہیں لیکن خدا تعالیٰ کے نزدیک یہ مکروہ اور گناہ ہیں۔اللہ تعالیٰ کے حکموں کے خلاف ہیں یہ۔پس بعض لوگ اور نوجوان ایسے لوگوں سے متاثر ہو جاتے ہیں کہ بڑا کھرا ہے یہ آدمی۔جو کچھ ظاہر میں ہے وہی اندر بھی ہے دورنگی نہیں ہے۔تو انہیں یہ یاد رکھنا چاہے کہ یہ دو رنگی نہ ہونا کوئی نیکی نہیں ہے بلکہ بے حیائیوں کا اشتہار دینا ہے اور اللہ تعالیٰ سے دوری ہے۔پس اس معاشرے میں رہنے والے نو جوانوں، مردوں عورتوں کو ایسے ماحول سے بچنے کی انتہائی کوشش کرنی چاہئے۔اللہ تعالیٰ کے حضور جھک کر اس سے ہمیشہ اھدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ (الفاتحة : 6) پر چلنے کی دعا کرنی چاہئے۔شیطان سے بچنے کی دعا کرنی چاہئے۔اللہ تعالیٰ ایک مومن سے جو تو قعات رکھتا ہے جن کا اُس نے ایک مومن کو حکم دیا ہے اُن کی تلاش کرنی چاہئے۔اُن احسن چیزوں کو تلاش کرنے کی کوشش اور اُس کے لئے جدو جہد کرنی چاہئے جس سے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر رحم کرتے ہوئے اپنے قرب کی نشاندہی فرماتا ہے۔اپنی رضا کے طریق انہیں سکھاتا ہے۔بندے کی نیکیوں پر خوش ہو کر اس کے عمل اور قول کی یک رنگی کی وجہ سے بندے کو ثواب کا مستحق بناتا ہے۔ان باتوں کی تلاش کے لئے ایک مومن کو خدا تعالیٰ کے حکموں کی تلاش کرنی چاہئے تا کہ احسن اور غیر احسن کا فرق معلوم ہو، ان کی حقیقت معلوم ہو اور ان لوگوں میں شمار ہو جن کو خدا تعالیٰ نے عباد یکہہ کر پکارا ہے۔ان کی دعاؤں کی قبولیت کی انہیں نوید اور بشارت دی ہے۔ہم احمد یوں پر تو اس زمانے میں یہ بہت بڑی ذمہ داری ہے کیونکہ ہم نے زمانے کے امام کو مانا ہے۔یہ عہد کیا ہے کہ ہم اپنے قول اور فعل میں مطابقت رکھیں گے اور ہر وہ کام کریں گے اور اس کے لئے ہر کوشش کریں گے جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک احسن ہے۔ہمارے قول فعل میں یک رنگی ہوگی۔اللہ تعالیٰ کی بتائی ہوئی احسن باتوں کے لئے ہم قرآن کریم کی طرف رجوع کریں گے جہاں سینکڑوں حکم دیئے گئے ہیں۔احسن اور غیر احسن کا فرق واضح کیا گیا ہے۔یہ بتایا گیا ہے کہ یہ کرو گے تو اللہ تعالیٰ کی قرب کی راہوں کے پانے والے بن جاؤ گے۔یہ کرو گے تو خدا تعالیٰ کی ناراضگی کے مورد بنو گے۔