خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 555 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 555

خطبات مسرور جلد 11 555 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 11 اکتوبر 2013ء کے سب سے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت ہو، مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے محبت ہو، خلافت سے محبت ہو اور آپس میں ایک دوسرے سے محبت ہو۔پھر فرمایا کہ اطاعت کے معیار حاصل کرو۔اطاعت یہ نہیں کہ خلیفہ وقت کے یا نظام جماعت کے فیصلے جو اپنی مرضی کے ہوئے دلی خوشی سے قبول کر لئے اور جو اپنی مرضی کے نہ ہوئے اُس میں کئی قسم کی تاویلیں پیش کرنی شروع کر دیں، اُس میں اعتراض کرنے شروع کر دیئے۔فرمایا کہ یہ بیعت کا دعوی اگر ہے تو پھر اطاعت بھی کامل ہونی چاہئے۔پس یہ بیعت کا دعوئی، اعتقاد کا دعوی، مریدی کا دعویٰ اور اس حقیقی اسلام پر عمل کرنے کا دعوی یا مسلمان ہونے کا دعوی تبھی حقیقی دعوئی ہے جب یہ اعلان ہو کہ آج بیعت کرنے کے بعد میرا کچھ نہیں رہا بلکہ سب کچھ خدا تعالیٰ کا ہے اور اُس کے دین کے لئے ہے۔اور یہی بیعت کا مقصد ہے کہ اپنے آپ کو بیچ دینا۔پھر ایک دوست کو نصیحت فرماتے ہوئے آپ نے فرمایا کہ: یہ یاد رکھو کہ بیعت کے بعد تبدیلی کرنی ضروری ہوتی ہے۔اگر بیعت کے بعد اپنی حالت میں تبدیلی نہ کی جاوے تو یہ استخفاف ہے۔“ یعنی تو بہ اور بیعت کا مذاق اڑانا ہے، اس کو کم نظر سے دیکھنا ہے، اُس کا احترام نہ کرنا ہے۔بیعت بازیچہ اطفال نہیں ہے۔بیعت کرنا کوئی بچوں کا کھیل نہیں ہے، بیعت ایک مطالبہ کرتی ہے۔در حقیقت وہی بیعت کرتا ہے جس کی پہلی زندگی پر موت وارد ہو جاتی ہے اور ایک نئی زندگی شروع ہو جاتی ہے۔ہر ایک امر میں تبدیلی کرنی پڑتی ہے۔“ ( ملفوظات جلد دوم صفحہ 257۔مطبوعہ ربوہ ) اللہ تعالیٰ کے فضل سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو آج بھی ایسے مخلص اللہ تعالیٰ عطا فرما رہا ہے جو بیعت کرنے کے بعد پاک تبدیلیاں اپنے اندر پیدا کرتے ہیں اور غیر بھی اُن کی اس پاک تبدیلی کے معترف ہیں۔ہمارے ایک مبلغ ہیں برکینا فاسو کے، وہ لکھتے ہیں کہ وہاں دینیہ ایک جگہ ہے ایک مرتبہ وہاں وہ دورے پر گئے اور یہ جماعت جو ہے یہ مالی کے بارڈر پر ہے اور یہاں جماعت کی کافی مخالفت ہے۔کیونکہ وہاں بھی وہابیوں کا زور ہے۔وہاں کے ایک مسجد کے امام ودرا گو یعقو بو صاحب ہیں یہ مسجد کے امام صاحب ہیں لیکن کم از کم ان میں اتنی سچائی ہے، پاکستانی مولویوں کی طرح نہیں کہ حقیقت کو ہی نہ مانیں۔کہتے ہیں انہوں مجھے بتایا کہ باوجود مخالفت کے ہم یہ بات تسلیم کرتے ہیں کہ اس گاؤں میں تین بہترین مسلمان ہیں اور وہ تینوں ہمارے لئے نمونہ ہیں اور اُن تینوں کا تعلق جماعت احمدیہ سے ہے۔