خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 556
خطبات مسرور جلد 11 556 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 11 اکتوبر 2013ء اس طرح مخالفین کو یہ کہنے پر مجبور کر دیا ہے کہ خدا تعالیٰ کے فضل سے جماعت میں آنے کے بعد لوگوں میں ایک حقیقی اور پاک تبدیلی پیدا ہوئی ہے۔پس جو بیعت کی حقیقت کو سمجھ کر بیعت کرتے ہیں وہ دوسروں کے لئے نمونہ بن جاتے ہیں اور یہ نمونہ ہی ہے جو پھر آگے تبلیغ کے میدان کھولتا ہے۔اگر تبلیغی میدان بڑھانا ہے تو ہم میں سے ہر ایک کو، جو کہیں بھی رہتا ہے، اس ملک کے ہر کونے میں اپنے نمونے ایسے قائم کرنے ہوں گے کہ لوگوں کی آپ کی طرف توجہ پیدا ہو اور تاکہ اُس کے نتیجہ میں پھر تبلیغ کے میدان کھلیں۔پس جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا اُن اعلیٰ معیاروں کو حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے جن کی آپ نے ہم سے توقع فرمائی ہے۔آپ ایک حقیقی احمدی کا معیار بیان فرماتے ہوئے ایک جگہ فرماتے ہیں کہ : لازم ہے کہ انسان ایسی حالت بنائے رکھے کہ فرشتے بھی اس سے مصافحہ کریں۔ہماری بیعت سے تو یہ رنگ آنا چاہئے۔اگر بیعت کی ہے تو یہ رنگ پیدا ہونا چاہئے ہر احمدی میں ” کہ خدا تعالیٰ کی ہیبت اور جلال دل پر طاری رہے جس سے گناہ دور ہوں۔“ ( ملفوظات جلد دوم صفحہ 397 مطبوعہ ربوہ ) پھر آپ فرماتے ہیں: ”اگر دنیا داروں کی طرح رہو گے تو اس سے کچھ فائدہ نہیں کہ تم نے میرے ہاتھ پر توبہ کی۔میرے ہاتھ پر تو بہ کرنا ایک موت کو چاہتا ہے تا کہ تم نئی زندگی میں ایک اور پیدائش حاصل کرو۔فرمایا ” بیعت اگر دل سے نہیں تو کوئی نتیجہ اس کا نہیں۔میری بیعت سے خدا دل کا اقرار چاہتا ہے۔پس جو سچے دل سے مجھے قبول کرتا اور اپنے گناہوں سے کچی تو بہ کرتا ہے ، غفور و رحیم خدا اُس کے گناہوں کو ضرور بخش دیتا ہے اور وہ ایسا ہو جاتا ہے جیسے ماں کے پیٹ سے نکلا ہے۔تب فرشتے اُس کی حفاظت کرتے ہیں۔“ ( ملفوظات جلد دوم صفحہ 194۔مطبوعہ ربوہ ) پس یہ تو بہ کے معیار اور پاک تبدیلی ہے جو ہم میں سے ہر ایک کو اپنے اندر پیدا کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔پھر آپ فرماتے ہیں : ” اس سلسلہ میں داخل ہو کر تمہارا وجود الگ ہو اور تم بالکل ایک نئی زندگی بسر کرنے والے انسان بن جاؤ۔جو کچھ تم پہلے تھے ، وہ نہ رہو۔“ ( ملفوظات جلد دوم صفحہ 195۔مطبوعہ ربوہ )