خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 554
خطبات مسرور جلد 11 554 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 11 اکتوبر 2013ء بیعت کی ہے اگر وہ یہ تعلقات نہیں بڑھاتا اور اس کے لئے کوشش نہیں کرتا، اللہ سے بھی تعلق اور جس کی بیعت کی ہے اُس سے بھی تعلق ” تو اس کا شکوہ اور افسوس بے فائدہ ہے۔پھر یہ شکوہ نہ کرو کہ اللہ تعالیٰ مجھے اُن انعامات سے نہیں نواز رہا جن کا وعدہ ہے۔فرمایا کہ ” محبت و اخلاص کا تعلق بڑھانا چاہئے۔جہاں تک ممکن ہو اُس انسان ( مُرشد ) کے ہمرنگ ہو۔طریقوں میں اور اعتقاد میں۔یعنی جس کی بیعت کی ہے اُس کے طریق پر چلو اور اعتقادی لحاظ سے بھی اُس معیار کو حاصل کرو۔پھر فرماتے ہیں کہ ” جلدی راستبازی اور عبادت کی طرف جھکنا چاہیے۔اور صبح سے لے کر شام تک حساب کرنا چاہئے۔“ ( ملفوظات جلد اول صفحہ 3-4 مطبوعہ ربوہ) سچائی اور عبادت کے معیار حاصل کرنے کی کوشش کرو اور صبح سے شام تک اپنے جائزے لو کہ کیا تم نے حاصل کیا ہے۔پھر آپ فرماتے ہیں : ” یہ مت خیال کرو کہ صرف بیعت کر لینے سے ہی خدا راضی ہو جاتا ہے۔یہ تو صرف پوست ہے۔مغز تو اس کے اندر ہے۔اکثر قانون قدرت یہی ہے کہ ایک چھلکا ہوتا ہے اور مغز اس کے اندر ہوتا ہے۔چھلکا کوئی کام کی چیز نہیں ہے۔مغز ہی لیا جاتا ہے۔بعض ایسے ہوتے ہیں کہ ان میں مغز رہتا ہی نہیں اور مرغی کے ہوائی انڈوں کی طرح جن میں نہ زردی ہوتی ہے نہ سفیدی ، جو کسی کام نہیں آسکتے اور رڈی کی طرح پھینک دیئے جاتے ہیں۔اسی طرح پر وہ انسان جو بیعت اور ایمان کا دعوی کرتا ہے اگر وہ ان دونوں باتوں کا مغز اپنے اندر نہیں رکھتا، یعنی بیعت اور ایمان کی حقیقت نہیں پتہ اور عمل اس کے مطابق نہیں تو اُسے ڈرنا چاہئے کہ ایک وقت آتا ہے کہ وہ اُس ہوائی انڈے کی طرح ذراسی چوٹ سے چکنا چور ہو کر پھینک دیا جائے گا۔اسی طرح جو بیعت اور ایمان کا دعویٰ کرتا ہے اُس کو ٹٹولنا چاہئے کہ کیا میں چھال کا ہی ہوں یا مغز؟ جب تک مغز پیدا نہ ہو ایمان، محبت، اطاعت، بیعت، اعتقاد، مریدی اور اسلام کا مدعی سچا مدعی نہیں ہے۔“ ( ملفوظات جلد اول صفحہ 416۔مطبوعہ ربوہ ) پھر یہ سب باتیں غلط ہیں کہ میں ایمان لایا، میری محبت ہے، میں کامل اطاعت کرنے والا ہوں، میں نے بیعت کی ہوئی ہے، میں اعتقادی طور پر یقین رکھتا ہوں، میں سچا مسلمان ہوں۔فرمایا یہ سب دعوے ہیں۔پس بیعت کے بعد ایمان میں بھی ترقی ہونی چاہئے ،محبت میں بھی ترقی ہونی چاہئے ، اللہ تعالیٰ سے محبت سب محبتوں سے زیادہ ہو، یہی خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے۔اور پھر اللہ تعالیٰ سے محبت کی وجہ سے اُس