خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 540 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 540

خطبات مسرور جلد 11 540 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 4 اکتوبر 2013ء کے اندر شیطان ہیں۔نفس اتارہ نفس کی ایسی حالت کو کہتے ہیں جو بار بار بدی کی طرف لے جاتا ہے، اللہ تعالیٰ کے احکام کی پیروی کرنے کی بجائے شیطان نے جو دنیا میں بے حیائی پھیلائی ہوئی ہے، اُس کی طرف توجہ دلاتا ہے۔برائیوں کو خوبصورت کر کے دکھاتا ہے۔فرمایا کہ یہی انسان کا شیطان ہے جو تمہیں ہر وقت بہکا تا رہتا ہے۔فرمایا کہ یہ انسانی قوتیں جو انسان کو ورغلاتی رہتی ہیں ، اگر اصلاح نہ پائیں گی تو انسان کو غلام کر لیں گی۔فرمایا کہ علم و عقل ہی بُرے طور پر استعمال ہوکر شیطان ہو جاتے ہیں۔‘، بعض انسانوں کو اپنے علم پر اور اپنی عقل پر بڑا ناز ہوتا ہے اور یہ ناز ہی اُن کو شیطان بنادیتا ہے اور یہی علم اور عقل ہی شیطان بن جاتا ہے۔متقی کا کام اُن کی اور ایسا ہی اور دیگر گل قومی کی تعدیل کرنا ہے۔“ ( ملفوظات جلد اول صفحہ 21۔مطبوعہ ربوہ ) یعنی اپنی ان طاقتوں کو جو خدا تعالیٰ کی طرف سے ملی ہیں ٹھیک کرنا ہوگا، صحیح موقعوں پر اور انصاف کے ساتھ استعمال کرنا ہوگا اور جب یہ ہوگا تو یہ تقویٰ ہے۔پھر آپ علیہ السلام فرماتے ہیں کہ : ”ہماری جماعت کے لئے خاص کر تقویٰ کی ضرورت ہے۔خصوصاً اس خیال سے بھی کہ وہ ایک ایسے شخص سے تعلق رکھتے ہیں اور اُس کے سلسلۂ بیعت میں ہیں جس کا دعویٰ ماموریت کا ہے۔تا وہ لوگ جو خواہ کسی قسم کے بغضوں، کینوں یا شرکوں میں مبتلا تھے یا کیسے ہی روبہ دنیا تھے، ان تمام آفات سے نجات پاویں۔“ ( ملفوظات جلد اول صفحہ 7 مطبوعہ ربوہ ) پس بیعت میں آ کر بھی اگر پاک تبدیلیاں نہ ہوں تو وہ مقصد پورا نہیں ہوتا جس کے لئے بیعت کی گئی ہے۔پھر ایک جگہ تقویٰ کی وضاحت فرماتے ہوئے ہمیں نصیحت کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں کہ : چاہئے کہ وہ تقویٰ کی راہ اختیار کریں، کیونکہ تقویٰ ہی ایک ایسی چیز ہے جس کو شریعت کا خلاصہ کہہ سکتے ہیں اور اگر شریعت کو مختصر طور پر بیان کرنا چاہیں تو مغز شریعت تقویٰ ہی ہو سکتا ہے۔تقویٰ کے مدارج اور مراتب بہت سے ہیں لیکن اگر طالب صادق ہو کر ابتدائی مراتب اور مراحل استقلال اور خلوص سے طے کرے تو وہ اس راستی اور طلب صدق کی وجہ سے اعلیٰ مدارج کو پالیتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اتما يَتَقَبَّلُ اللهُ مِنَ الْمُتَّقِينَ (المائدة: 28) گویا اللہ تعالیٰ متقیوں کی دعاؤں کو قبول فرماتا ہے۔یہ گویا اُس کا وعدہ ہے اور اُس کے وعدوں میں مختلف نہیں ہوتا۔اللہ تعالیٰ وعدہ خلافی نہیں کرتا۔جیسا کہ فرمایا