خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 541
خطبات مسرور جلد 11 541 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 4اکتوبر 2013ء ہے إِنَّ اللهَ لَا يُخْلِفُ الْمِيعَادَ (الرعد: 32) پس جس حال میں تقویٰ کی شرط قبولیت دعا کے لئے ایک غیر منفک شرط ہے تو ایک انسان غافل اور بے راہ ہو کر اگر قبولیت دعا چاہے تو کیا وہ احمق اور نادان نہیں ہے لہذا ہماری جماعت کو لازم ہے کہ جہاں تک ممکن ہو ہر ایک اُن میں سے تقویٰ کی راہوں پر قدم مارے تا کہ قبولیت دعا کا سُرور اور حفظ حاصل کرے اور زیادتی ایمان کا حصہ لے۔“ ( ملفوظات جلد اول صفحہ 68۔مطبوعہ ربوہ ) پھر آپ فرماتے ہیں کہ انسان کو ہر وقت اپنے قومی سے کام لینا چاہئے۔فرمایا کہ : ” غرض یہ قویٰ جو انسان کو دئے گئے ہیں اگر وہ ان سے کام لے تو یقیناً ولی ہو سکتا ہے۔فرمایا: ” میں یقیناً کہتا ہوں کہ اس امت میں بڑی قوت کے لوگ آتے ہیں جو نور اور صدق اور وفا سے بھرے ہوئے ہوتے ہیں۔اس لئے کوئی شخص اپنے آپ کو ان قومی سے محروم نہ سمجھے کیا اللہ تعالیٰ نے کوئی فہرست شائع کر دی ہے جس سے یہ سمجھ لیا جائے کہ ہمیں ان برکات سے حصہ نہیں ملے گا۔یعنی فلاں لوگوں کو ملنا ہے اور ہمیں نہیں مل سکتا، ایسی کوئی فہرست نہیں ہے۔فرمایا: ”خدا تعالی بڑا کریم ہے۔اس کی کریمی کا بڑا گہرا سمندر ہے جو بھی ختم نہیں ہو سکتا اور جس کو تلاش کرنے والا اور طلب کرنے والا کبھی محروم نہیں رہا۔اس لئے تم کو چاہیے کہ راتوں کو اٹھ اٹھ کر دعائیں مانگو اور اس کے فضل کو طلب کرو۔ہر ایک نماز میں دعا کے لئے کئی مواقع ہیں۔رکوع، قیام، قعدہ، سجدہ وغیرہ۔پھر آٹھ پہروں میں پانچ مرتبہ نماز پڑھی جاتی ہے۔فجر ،ظہر، عصر، شام اور عشاء۔ان پر ترقی کر کے اشراق اور تہجد کی نمازیں ہیں۔یہ سب دعا ہی کے لئے مواقع ہیں۔“ ( ملفوظات جلد اول صفحہ 233-234 مطبوعہ ربوہ ) پھر اس بارے میں وضاحت فرماتے ہوئے کہ نماز کی اصل غرض اور مغز دعا ہی ہے، آپ فرماتے ہیں کہ : ” نماز کی اصلی غرض اور مغز دعا ہی ہے اور دعا مانگنا اللہ تعالیٰ کے قانون قدرت کے عین مطابق ہے۔مثلاً ہم عام طور پر دیکھتے ہیں کہ جب بچہ روتا دھوتا ہے اور اضطراب ظاہر کرتا ہے تو ماں کس قدر بے قرار ہو کر اس کو دودھ دیتی ہے۔الوہیت اور عبودیت میں اسی قسم کا ایک تعلق ہے۔اللہ تعالیٰ اور بندے میں اسی قسم کا تعلق ہے۔جس کو ہر شخص سمجھ نہیں سکتا۔جب انسان اللہ تعالیٰ کے دروازہ پرگر پڑتا ہے اور نہایت عاجزی اور خشوع و خضوع کے ساتھ اس کے حضور اپنے حالات کو پیش کرتا ہے اور اس سے اپنی حاجات کو مانگتا ہے تو اُلوہیت کا کرم جوش میں آتا ہے اور ایسے شخص پر رحم کیا جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم کا دودھ بھی ایک گریہ کو چاہتا ہے۔رونے اور آہ وزاری کو چاہتا ہے۔اس لئے اس کے 66