خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 539
خطبات مسرور جلد 11 539 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 14اکتوبر 2013ء کہ اس جلسہ میں شامل ہو کر اپنی علمی عملی ، اعتقادی اور روحانی صلاحیتوں کو کئی گنا بڑھانے کا ذریعہ بنائیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جلسہ کے مقاصد میں بتایا تھا کہ اس میں شامل ہو کر تقویٰ اور خدا ترسی میں نمونہ بنو۔یہ جلسہ تمہارے اندر خدا تعالیٰ کا خوف پیدا کرنے والا بن جائے۔نرم دلی اور باہم محبت اور مؤاخات میں دوسروں کے لئے نمونہ بن جاؤ۔بھائی چارے میں ایک مثال قائم کرو۔انکسار اور عاجزی پیدا کرو۔دین کی خدمت کے لئے اپنے اندر ایک جوش اور جذ بہ پید کرو۔اللہ تعالیٰ سے ایک زندہ تعلق پیدا کرنے کی کوشش کرو۔اس جلسہ کے دنوں میں اپنے عہد بیعت کے جائزے لو، جس میں حقوق اللہ کے ساتھ حقوق العباد کی ادائیگی کی طرف بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔آپ نے فرمایا کہ: 66 " مجھے ان لوگوں سے کیا کام ہے جو سچے دل سے دینی احکام اپنے سر پر نہیں اُٹھا لیتے۔“ ( مجموعہ اشتہارات جلد اول صفحہ 363 اشتہار نمبر 117 التوائے جلسہ 17 دسمبر 1893ء مطبوعہ ربوہ ) پس یہ ایک احمدی کے کرنے کے بہت بڑے کام ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک بہت بڑا مشن لے کر آئے تھے۔اگر ہم نے آپ کی بیعت کا حق ادا کرنا ہے اور اس مشن کو پورا کرنا ہے جو آپ لے کر آئے تو پھر ہمیں اُن تعلیمات پر غور کرنا ہو گا جو آپ نے ہمیں دیں۔ہمیں اُن تمام تو قعات پر پورا اترنے کی کوشش کرنی ہوگی جو آپ نے ہم سے رکھیں۔پس ہمیں یہ نہ سمجھنا چاہئے کہ ہم احمدی ہو گئے ہیں اور مقصد پورا ہو گیا ہے۔اب احمدی ہونے کے بعد ان باتوں اور ان چیزوں اور اُن توقعات کی تلاش کی ضرورت ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہم سے کی ہیں۔یہ جلسہ کے تین دن کیونکہ اجتماعی طور پر روحانی ماحول کے دن ہیں اس لئے ان دنوں میں خاص طور پر تلاش کر کے اور یہاں کے پروگراموں سے فائدہ اُٹھا کر ہمیں ایک حقیقی احمدی بننے کی کوشش کرنے کی ضرورت ہے، اپنے جائزے لینے کی ضرورت ہے۔اس وقت میں اُس فہرست میں سے چند باتوں کا ذکر کروں گا اور آپ کے سامنے پیش کروں گا جو اُن معیاروں کی طرف رہنمائی کرتے ہیں جس کی توقع حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہم سے کی ہے۔جلسہ کے مقاصد میں سے ایک مقصد آپ نے یہ بیان فرمایا تھا کہ تا آنے والوں کے دل میں تقویٰ پیدا ہو۔تقویٰ کیا ہے؟ اس بارے میں آپ علیہ السلام فرماتے ہیں کہ : تقوی کوئی چھوٹی چیز نہیں، اس کے ذریعہ سے اُن تمام شیطانوں کا مقابلہ کرنا ہوتا ہے جو انسان کی ہر ایک اندرونی طاقت وقوت پر غلبہ پائے ہوئے ہیں۔یہ تمام قوتیں نفس اتارہ کی حالت میں انسان