خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 503
خطبات مسرور جلد 11 503 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 06 ستمبر 2013ء ایک خاتون جرمنی سے آئی تھیں، جلسہ کی انتظامیہ کو اُن کی بھی بات بتا دوں کہ انتظام بڑا صحیح تھا، صفائی صحیح تھی ، ٹائلٹس وغیرہ بڑے اچھے تھے لیکن ٹائلٹس میں لوٹوں کی جگہ جگ رکھے ہوئے تھے۔تو کہتی ہیں میں انتظام کر سکتی ہوں کہ جرمنی سے لوٹے لا دوں یا کہیں سے منگوا دوں۔بیشک بڑی خوشی سے انتظام کریں اور میرا خیال ہے یو کے (UK) والے اُن کی اس offer کو قبول بھی کر لیں گے۔اسی طرح paper towel اور بڑے ڈسٹ بن جو ہیں ان کا انتظام بھی کھلا ہونا چاہئے۔ایک شکایت یہ ہے کہ جلسہ ختم ہوتے ہی غسل خانوں میں پانی ختم ہو گیا تھا۔جلسہ کی انتظامیہ اس کا آئندہ خیال رکھے۔بہر حال یہ چند چھوٹی موٹی باتیں ہیں اس کے علاوہ مجموعی طور پر جلسہ کے انتظامات اور تقاریر کے معیار بھی جیسا کہ مہمانوں نے ذکر کیا اور عمومی ماحول بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے بہت اعلیٰ تھا۔ہر شامل ہونے والے نے ، جو ہر سال شامل ہوتے ہیں انہوں نے بھی اس کا اظہار کیا ہے کہ پہلے کی نسبت یہ اعلیٰ معیار ہے اور تمام کارکنان اور انتظامیہ بہر حال اس کے لئے شکریہ کے مستحق ہیں۔اللہ تعالیٰ سب کو جزا دے۔پاکستان کے احمدیوں کے لئے بھی دعا کریں۔کل 7 ستمبر ہے اور جو ہمارے مخالفین ہیں یہ دن بڑے جوش و خروش سے مناتے ہیں۔ان دنوں میں اپنے آپ کو انہوں نے اکٹھا کر کے ایک تو حدیث پوری کر دی لیکن بہر حال یہ اُن کا جو بھی فعل ہے اور جماعت احمدیہ مسلمہ ان فرقوں سے علیحدہ ہوگئی ، خود انہوں نے حدیث پوری کردی۔تو یہ دن بڑے زور و شور سے منایا جاتا ہے۔جلسے ہوتے ہیں، جلوس نکلتے ہیں، جماعت کو گالیاں دی جاتی ہیں، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے خلاف انتہائی بیہودہ دریدہ دہنی کا مظاہرہ کیا جاتا ہے اور یہ سب کچھ ختم نبوت کے نام پر ہوتا ہے اور اس دفعہ ان کا یہ ارادہ ہے کہ پورا ہفتہ عشرہ اپنے ان مذموم مقاصد کو حاصل کرنے کی کوشش کے لئے منائیں گے۔جو لوگ خدا تعالیٰ کے حبیب محسنِ انسانیت اور رحمتہ للعالمین کو اپنے غلط مقاصد کے لئے بدنام کر رہے ہیں خدا تعالیٰ جلد اُن کی پکڑ کے بھی سامان بھی پیدا فرمائے گا۔اس ہفتہ میں کراچی میں پھر دو شہادتیں ہوئی ہیں۔اِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔یہ بھی دعا کریں اللہ تعالیٰ جلد احمدیوں کے لئے بھی پاکستان میں آزادی کے اور سہولت کے سامان پیدا فرمائے۔آج یہاں ہمارے ایک گھا نین بزرگ کا جنازہ حاضر بھی ہے۔اُن کا جنازہ بھی میں پڑھاؤں گا اور ان دو شہداء کا جنازہ غائب بھی ساتھ پڑھا جائے گا۔کیونکہ ایک جنازہ حاضر ہے میں باہر جا کر جنازہ پڑھاؤں گا اور احباب یہیں مسجد میں صفیں درست کر لیں اور جنازہ میرے پیچھے پڑھیں۔