خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 504 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 504

خطبات مسرور جلد 11 504 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 06 ستمبر 2013ء یہ ہمارے گھا نین دوست، بزرگ جن کی وفات ہوئی ہے ان کا نام آدم بن یوسف صاحب ہے اور ان کو کینسر کی بیماری تھی۔3 رستمبر کو 84 سال کی عمر میں ان کی وفات ہوئی۔إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔1956ء میں 27 سال کی عمر میں انہوں نے بیعت کی تھی اور بیعت کے بعد انہوں نے اپنی ملازمت چھوڑ دی اور تبلیغ شروع کر دی۔آپ نے گھانا کے تمام علاقوں میں تبلیغ کی اور اکثر مقامات میں جماعتیں قائم کیں۔پرانی جماعتوں کو فعال کرنے میں خصوصی کردار ادا کیا۔ان کی تبلیغ سے سینکڑوں احباب نے احمدیت قبول کی۔ان کی تبلیغ کے شوق کی وجہ سے ان کا نام ہی وہاں گھانا میں یوسف preacher پڑ گیا تھا۔مرحوم 2003ء میں یو کے (UK) آئے تھے، یہاں بھی تبلیغی سرگرمیاں جاری رکھیں اور خصوصی طور پر ریڈیو پروگراموں میں تبلیغ کیا کرتے تھے جن میں voice of Africa اور WVLS ریڈیو قابل ذکر ہیں۔اپنے ریجن کے سیکرٹری تبلیغ بھی تھے۔2001ء میں ان کو حج کی سعادت بھی ملی۔2005ء میں جلسہ سالانہ قادیان میں شمولیت کی توفیق پائی۔بہت نیک، صالح ، نماز روزے کے پابند اور مخلص انسان تھے۔خلافت کے ساتھ گہرا محبت کا تعلق تھا۔مرحوم موصی تھے۔ان کے پسماندگان میں دو بیویاں اور دس بیٹیاں یادگار ہیں۔اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے اور ان کی نسلوں میں بھی احمدیت ہمیشہ قائم رہے۔جو شہداء ہیں اُن میں سے ایک شہید ڈاکٹر سید طاہر احمد صاحب ابن ڈاکٹر سید منظور احمد صاحب لانڈھی کراچی ہیں۔ان کی شہادت 31 اگست کو ہوئی تھی۔31 اگست کو یہ اپنے کلینک میں بیٹھے ہوئے تھے، مریضوں کو چیک کر رہے تھے اسی دوران دو مرد اور دو خواتین مریض کے روپ میں کلینک میں داخل ہوئے اور ان میں سے ایک مرد نے ڈاکٹر صاحب پر فائرنگ کر دی۔ڈاکٹر صاحب کو چھ گولیاں لگیں۔ڈاکٹر صاحب کی اہلیہ نے گولیوں کی آواز سنی تو معمول کی فائرنگ سمجھی۔وہاں کراچی میں تو ہر وقت فائرنگ ہوتی رہتی ہے مگر ان کے پڑوسی فائرنگ کی آواز سن کر باہر نکلے تو کلینک سے چارافراد کو بھاگتے ہوئے دیکھا۔وہ فوراً کلینک کی طرف آئے تو دیکھا کہ ڈاکٹر صاحب خون میں لت پت زمین پر گرے ہوئے ہیں۔وہ ڈاکٹر صاحب کو فوراً ایک گاڑی میں ڈال کر ہسپتال لے گئے مگر ڈاکٹر صاحب راستے میں ہی جامِ شہادت نوش فرما گئے۔إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ شہید مرحوم کے خاندان میں احمدیت کا نفوذ آپ کے دادا مکرم حکیم فضل الہی صاحب کے ذریعہ ہوا تھا جنہیں حضرت خلیفہ اسیح الثانی کے دور خلافت میں بیعت کر کے جماعت میں شامل ہونے کی سعادت حاصل ہوئی۔آپ کے دادا کا تعلق تلونڈی ضلع گوجرانوالہ سے تھا اور 1970ء میں ان کے دادا