خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 502
خطبات مسرور جلد 11 502 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 06 ستمبر 2013ء دے رہا تھا کہ میں جرمنی میں کچن میں ڈیوٹی دے رہا تھا تو خلیفہ رابع نے مجھے کہا کہ تم کچن میں ہو تو مجھے کوئی فکر نہیں۔لیکن اگر انہوں نے کہا بھی تھا، پتہ نہیں کہا تھا کہ نہیں کہا تھا لیکن کہا تھا تو اُن کی یہ خودنمائی کی باتیں سن کر یہ ضرور انہوں نے کہہ دینا تھا کہ میں الفاظ واپس لیتا ہوں۔یہ خود پسندی، خود نمائی اور اپنی تعریف اور دوسروں پر اعتراض کی جو عادت ہے ہم میں سے ہر ایک کو اس کی اصلاح کی کوشش کرنی چاہئے۔جماعت احمدیہ کے کام نہ ایک شخص سے مخصوص ہیں، نہ ہی کسی شخص پر اس کا انحصار ہوسکتا ہے۔یہی جماعت کی خوبی ہے اور اسی کی غیروں نے بھی تعریف کی ہے کہ ایک ٹیم ورک تھا ، سب بڑے چھوٹے مل کے کام کرتے ہیں اور بڑے اعلیٰ معیار کے کام ہورہے تھے۔اب تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہاں یو کے (UK) میں بھی سینکڑوں ہزاروں ایسے مخلص کارکن اللہ تعالیٰ نے مہیا کر دیئے ہیں کہ ایک کو اگر ہٹا ؤ تو دس نئے کام کرنے والے آجاتے ہیں جو خود نمائی کی بجائے عاجزی دکھانے والے ہیں اور اللہ تعالیٰ کا خوف رکھنے والے ہیں۔تو بہر حال مجھے تو ایسوں کی ضرورت ہے جو اس طرح عاجزی سے کام کرنے والے ہوں اور ایسے کارکنوں کے لئے میں دعا بھی کرتا ہوں۔بعض ڈیوٹی دینے والوں کی یہ شکایت ملی ہے اور یہ نہیں کہ ادھر ادھر سے ملی ہے ، خدام الاحمدیہ نے خود ہی محسوس کیا ہے کہ بعض سیکیورٹی ڈیوٹی دینے والے بعض دفعہ بعض لوگوں پر سختی کرتے رہے، مثلاً ایک retarded لڑکا تھا اُس کو بلا وجہ بختی سے زور سے پیچھے ہٹایا تو اس کو چوٹ بھی لگ گئی یا اُس کو تکلیف ہوئی، پیٹ پر ہاتھ پڑا تھا، تو جو ڈیوٹی دینے والے ہیں اُن کو ہوشیار بھی رہنے کی ضرورت ہوتی ہے۔سیکیورٹی کا خاص طور پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے اور اعصاب کو قابو میں رکھنے کی بھی ضرورت ہے۔اس کے بغیر سیکیورٹی ڈیوٹی نہیں دی جاسکتی۔پس خدام الاحمدیہ آئندہ سال کے لئے ، سارا سال یہ سروے کرے کہ سارے ملک میں سے کون سے ایسے لڑکے ہیں جو مضبوط اعصاب والے بھی ہیں اور ہوش حواس بھی قائم رکھنے والے ہیں تا کہ اگر کوئی ہنگامی صورت ہو اُس میں کام بھی آسکیں اور آئندہ سال ایسے لوگوں کو لیا جائے۔اور ایک اعتراض یہ بھی مجھے مل رہا ہے اور شاید کسی حد تک صحیح ہے کہ مردانہ مار کی ور لجنہ کی مارکی کے درمیان ایم ٹی اے کی مار کی تھی جہاں دفاتر اور ٹرانسمشن وغیرہ کا انتظام تھا۔اس کی وجہ سے اگر ایمر جنسی میں نکلنا پڑے تو روک پڑسکتی ہے۔اس لئے جلسہ گاہ کے دونوں طرف کھلے راستے ہونے چاہئیں۔علاوہ اس اعتراض کے جو انہوں نے نہیں لکھا لیکن میرے خیال میں اس کا ایک فائدہ یہ بھی ہوگا کہ گرمی کی وجہ سے بعض دفعہ در کھولنے پڑتے ہیں تو ہوا بھی اچھی آئے گی۔اس لئے ایم ٹی اے کی مار کی کو آگے پیچھے کیا جاسکتا ہے۔