خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 493 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 493

خطبات مسرور جلد 11 493 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 06 ستمبر 2013ء آیا۔پھر کہتی ہیں کہ سب سے زیادہ جس بات سے میں متاثر ہوئی وہ یہ تھی کہ ہر شخص خدا کی خاطر ایک commitment کے ساتھ اس جلسہ میں شامل ہوا تھا۔یوں لگتا تھا کہ سارے ہی مہمان ہیں اور سارے ہی میز بان ہیں۔مرد، عورتیں، بڑا، چھوٹا غرضیکہ ہر شخص میز بانی کے لئے حاضر تھا اور ان کی محبت دکھاوے کے لئے نہ تھی بلکہ دل کی گہرائیوں سے تھی۔پھر کہتی ہیں کہ عورتوں کو مردوں سے الگ تھلگ ایک جگہ دیکھنا میرے لئے باعث حیرت تھا اور مجھے یوں لگا کہ شاید یہاں بھی عورتوں سے دوسرے مسلمانوں کی طرح سلوک کیا جاتا ہے۔لیکن جب میں ان عورتوں کے ساتھ رہی تو کچھ ہی دیر میں میرا یہ تاثر بدل گیا۔میں نے دیکھا کہ فوٹو اتارنے والی بھی عورت تھی، کیمرے پر بھی عورت تھی ، استقبال پر بھی عورتیں تھیں، کھانا تقسیم کرنے والی بھی عورتیں تھیں ، غرضیکہ ہر کام عورتیں ہی کر رہی تھیں اور یہ سچ ہے کہ عورت کا پردہ ہرگز اُس کی آزادی کو ختم نہیں کرتا۔اگر کسی کو اس کا یقین نہ آئے تو احمدیوں کے ہاں آ کر دیکھ لے۔پھر کہتی ہیں کہ جب میں امام جماعت احمدیہ کے دفتر میں گئی تو حیران تھی کہ اتنا چھوٹا سا دفتر بھی دنیا کا محور ہو سکتا ہے۔پھر کہتی ہیں مجھے مردوں کی مارکی میں بیٹھ کر بھی امام جماعت احمدیہ کا خطاب سنے کا موقع ملا اور جب وہ آتے تو سب لوگوں کا سکون اور بڑے ادب سے کھڑے رہنے کا منظر ایسا تھا کہ بیان نہیں کر سکتی۔میں نے ایسا تو کبھی کسی ملک کے صدر کے لئے بھی نہیں دیکھا۔پھر کہتی ہیں کہ ان کے خطاب کے دوران ہزاروں افراد جن میں بچے، بوڑھے اور جوان سب شامل تھے ، اتنی خاموشی سے اُن کا بیٹھنا ایک ایسا منظر تھا کہ معلوم ہوتا تھا کہ یہاں انسان نہیں بلکہ شاید انسان نما پتلے بیٹھے ہیں۔یہ سب عزت واحترام اور ادب میری زندگی کا ایک انوکھا تجربہ تھا۔پھر سیرالیون سے وزیر داخلہ اور امیگریشن جے بی داؤ دا صاحب شامل ہوئے۔کہتے ہیں مختلف شعبوں کا منسٹر ہونے کی وجہ سے ساری دنیا میں سفر کرتا رہا ہوں اور بڑی بڑی کانفرنسوں میں شرکت کرتا ہوں لیکن آج تک ایسی شاندار کا نفرنس کبھی نہیں دیکھی جہاں محبت، پیار، بھائی چارا اور روحانیت نمایاں تھی۔پھر سیرالیون کی ایک مہمان خاتون آنریبل جسٹس موسیٰ دمیرو ہیں۔یہ ہائی کورٹ کی چیف جسٹس ہیں۔یہ بھی جلسہ میں شامل ہوئی تھیں۔کہتی ہیں کہ جلسہ بہت اچھے طریقے سے آرگنا ئز کیا گیا جس میں ہر شعبه بشمول مہمان نوازی، ٹرانسپورٹ سیکیورٹی کمیونیکیشن وغیرہ نے عمدہ طور پر اپنے فرائض ادا کئے۔یہ جلسہ مختلف ثقافتوں اور سماجوں کے درمیان فاصلہ کم کرنے کے لئے انتہائی اہم فورم ہے۔ایک دوسرے کے ساتھ integration کرنے کے لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ اصول وضع فرما دیا ہے کہ