خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 492 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 492

خطبات مسرور جلد 11 492 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 06 ستمبر 2013ء کے ساتھ ان تقاریر کو بڑے انہماک سے سنتے۔اور اکتیس ہزار سے زیادہ لوگ وہاں موجود تھے لیکن پھر بھی ہر طرف خاموشی ہوتی۔یہ ایک عجیب نظارہ تھا جو میں کبھی نہیں بھول سکتا۔پھر اسی پریس کانفرنس میں کہتے ہیں کہ جب جلسہ ختم ہوا تو میں نے کہیں بھی دھکم پیل نہیں دیکھی۔جلسہ گاہ سے سب لوگ آرام اور سکون سے ایک ایک کر کے نکل رہے تھے۔اگر کسی کو کہنی لگ جاتی یا کسی کا پاؤں دوسرے کے پاؤں پر آ جاتا تو وہ فوراً معذرت کرتا۔چھوٹی چھوٹی باتوں پر ایک دوسرے سے معذرت کرتے۔یہ نظارہ میں نے پہلے کبھی نہیں دیکھا۔پھر کہتے ہیں اکتیس ہزار لوگ مل جل کر رہتے۔سب وہیں کھانا کھاتے ، ہر چیز کا وہیں انتظام تھا۔جلسہ میں مختلف ممالک سے وزراء اور اعلی تعلیم یافتہ لوگ بھی شامل تھے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ پڑھے لکھے لوگوں کی جماعت ہے۔پھر کہتے ہیں کہ اگر ہمارا ملک ترقی کر سکتا ہے تو جماعت کی خدمات کی وجہ سے ترقی کرسکتا ہے۔میں بینن کے لوگوں کو ہی نہیں بلکہ پورے عالم اسلام کو کہتا ہوں کہ امن اور رواداری جماعت احمد یہ سے سیکھیں۔مجھے جماعت کی مخالفت کے بعض واقعات کا علم ہوا ہے۔میں بینن کے لوگوں کو کہتا ہوں کہ ان کی مخالفت چھوڑ کر ان سے اسلام سیکھیں۔( میں یہ بتادوں بہین میں بھی بعض علاقوں میں جماعت کی کافی مخالفت ہے جہاں جماعت تیزی سے ترقی کر رہی ہے) کہتے ہیں کہ جماعت احمدیہ کے خلیفہ کی ایک ہی خواہش ہے کہ دنیا میں امن قائم ہو جائے۔پھر کہتے ہیں کہ شاملین جلسہ کو جس طرح خلیفہ سے محبت کرتے دیکھا، اُن کے خلیفہ کو بھی اُسی طرح اُن سے محبت کرتے دیکھا۔میں نے ان لوگوں کو اپنے خلیفہ کی محبت میں روتے دیکھا ہے۔کیا ہی عجیب اور روحانی نظارہ تھا جو میں اپنی زندگی میں کبھی بھلا ہی نہیں سکوں گا۔تو یہ ایک تاثر ہے۔پھر ایک دا میا بیا تریس صاحبہ (Damiba Beatrice) ہیں جو بورکینا فاسو سے جلسہ میں شامل ہوئیں اور بورکینافاسو پرنٹ میڈیا، الیکٹرانک میڈیا کے لئے ہائر اتھارٹی کمیشن کی صدر ہیں۔دو دفعہ ملک کی فیڈرل منسٹر رہ چکی ہیں۔اس کے علاوہ اٹلی اور آسٹریا میں چودہ سال تک بورکینا فاسو کی سفیر بھی رہ چکی ہیں۔نیز یو این او میں بھی اپنے ملک کی نمائندگی کر چکی ہیں۔یہ کہتی ہیں کہ اس جلسہ میں شمولیت میرے لئے زندگی میں اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے۔میں یو این او میں بھی اپنے ملک کی نمائندگی کر چکی ہوں جہاں میں نے کئی ملکوں کے نمائندے دیکھے ہیں مگر اس جلسہ میں بھی اسی سے زائد ملکوں کے نمائندے شامل تھے اور سب ایک لڑی میں پروئے ہوئے تھے۔موتیوں کی مالا نظر آتے تھے۔مجھے کوئی شخص کالا ، گورا یا انگلش یا فرنچ نظر نہ آیا بلکہ ہر احمدی مسلمان بغیر رنگ ونسل کے امتیاز کے اپنے خلیفہ کا عاشق ہی نظر