خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 494
خطبات مسرور جلد 11 494 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 06 ستمبر 2013ء اسلام میں ہر ایک بھائی بھائی ہے۔تمام مقررین نے بہترین انداز میں تقاریر کیں جس کی وجہ سے سارے جلسے کے دوران earphone کان سے نہیں اترا۔کہتی ہیں کہ جلسہ کے دوران لوگ بے لوث ہوکر ایک دوسرے پر فدا ہورہے تھے۔مہمان نوازی کا کوئی جواب نہیں تھا۔صرف خدمت ہی نہیں کی جارہی تھی بلکہ واضح طور پر محسوس ہوتا تھا کہ آپ کو انتہائی عزت و احترام کے ساتھ رکھا جارہا ہے۔پھر کہتی ہیں کہ کام کرنے والے تمام افراد اپنے چہرے پر مسکراہٹ لئے ہوئے تھے جس میں احمدیت کے موٹو محبت سب کے لئے، نفرت کسی سے نہیں، کی صحیح معنوں میں عکاسی ہوتی تھی۔پھر آئیوری کوسٹ سے ایک مہمان تو رے علی Tource Ali) صاحب تھے۔یہ سپریم کورٹ کے جج ہیں اور پہلے وزارت ثقافت میں کیبنٹ ڈائر یکٹر کے طور پر لمبا عرصہ کام کرتے رہے ہیں۔مذہب میں کافی دلچسپی رکھتے ہیں۔مذہبی کتب کے مطالعہ کا شوق ہے۔روزانہ قرآن کریم کا مطالعہ کرتے ہیں۔جلسہ کے دنوں میں جس ہوٹل میں ٹھہرے ہوئے تھے وہاں روزانہ با قاعدہ فجر کی نماز اور نوافل کی ادائیگی کا اہتمام کرتے اور جلسہ گاہ میں بھی پوچھتے کہ نماز کا وقت ہو گیا ہے کہ نہیں؟ کیونکہ میں نہیں چاہتا کہ یہاں باجماعت نماز ہوتی ہے اور میں اس سے محروم رہوں۔جلسہ کی افتتاحی تقریب میں جب حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کا منظوم کلام پڑھا گیا تو فرط جذبات سے آنکھوں میں آنسو آ گئے۔بعد میں کہنے لگے کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کا کلام سیدھا دل میں اتر رہا تھا۔میں نے تقویٰ کا یہ دل گداز مضمون پہلی دفعہ سنا تو اپنے آپ کو محض لاطی پایا جس کی وجہ سے اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکا۔آخری دن اختتام پر کہنے لگے کہ میں تو تین دن تک اس ماڈی دنیا سے بالکل منقطع تھا کسی اور ہی روحانی ماحول میں پہنچا ہوا تھا جہاں سرور ہی سرور تھا۔دنیا کے کاموں سے کلیۂ آزاد تھا۔اب جلسہ ختم ہوا ہے تو اس دنیا میں واپس آیا ہوں اور اپنے عزیز واقارب کو فون کرنے لگا ہوں۔غیروں کا بھی یہ حال ہے، روحانی ماحول کا اثر ہوتا ہے۔کہتے ہیں ہمارا بہت اچھا خیال رکھا گیا۔شکریہ کے الفاظ ہمارے پاس نہیں ہیں۔کونگو سے تعلق رکھنے والے ایک دوست جو سابق صدر مملکت کے مشیر اور اس وقت سی آراے سی (CRAC) جو اُن کی پارٹی ہے اُس کے پریذیڈنٹ ہیں اور آئندہ ہونے والے ملکی انتخابات میں صدارتی امیدوار ہیں۔جلسہ کے دوسرے روز ایک دن کے لئے آئے تھے اور شام کو جو تبشیر کا ڈنر ہوتا ہے اُس میں بھی شامل ہوئے تھے۔اور اُس وقت تھوڑی دیر کے لئے مجھے ملے بھی تھے۔یہ کہتے ہیں کہ کچھ عرصہ پہلے تک مجھے جماعت احمدیہ کا علم نہیں تھا۔انہوں نے جلسہ میں اپنی آنکھوں سے بعض نظاروں کو