خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 463 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 463

خطبات مسرور جلد 11 463 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 16 اگست 2013ء کرے دوسرے کو نفع کیونکر پہنچا سکتا ہے۔دوسرے کی نفع رسانی اور ہمدردی کے لئے ایثا ر ضروری شے ہے اور اس آیت میں لَن تَنَالُوا الْبِرِّحَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ میں اسی ایثار کی تعلیم اور ہدایت فرمائی گئی ہے۔پس مال کا اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنا بھی انسان کی سعادت اور تقویٰ شعاری کا معیار اور محک ہے۔ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ کی زندگی میں لگہی وقف کا معیار اور محک وہ تھا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ضرورت بیان کی اور گل اثاث البيت لے کر حاضر ہو گئے۔“ ( ملفوظات جلد 1 صفحہ 368-367 مطبوعہ ربوہ ) پس سیکر ٹریانِ مال کو اس طریق پر افراد جماعت کی تربیت کی ضرورت ہے کہ جب مالی قربانی ہو تو تقویٰ اور ایمان پختہ ہوتا ہے۔اسی طرح مربیان کو بھی اس بارے میں جب بھی موقع ملے نصیحت کرنی چاہئے۔اس کے لئے مسلسل توجہ کی ضرورت ہے۔پس ہر سطح پر سیکر ٹر یان مال کو فعال ہونے کی ضرورت ہے۔سیکرٹریانِ مال کا کام ہے کہ اپنی ذمہ داری نبھا ئیں اور ہر فرد تک اُن کی ذاتی approach ہو۔یہ نہیں کہ ذیلی تنظیموں کے سپرد کر دیا جائے کہ ذیلی تنظیمیں اس میں مدد کریں۔ذیلی تنظیمیں صرف اس حد تک مدد کریں گی کہ وہ اپنے ممبران کو تلقین کریں۔اس سے زیادہ سیکرٹریان مال کی مدد ذیلی تنظیم کا کام نہیں ہے۔ذیلی تنظیمیں اپنے ممبران کو توجہ دلا سکتی ہیں کہ سیکرٹریانِ مال سے تعاون کریں اور چندے کی روح کو سمجھیں۔بہر حال چندے کی روح کو سمجھانا تو ذیلی تنظیموں کا کام ہے۔لیکن سیکرٹریانِ مال اس بات سے بری الذمہ نہیں ہو جاتے کہ ہم نے ذیلی تنظیموں کو کہا تو انہوں نے ہماری مدد نہیں کی۔یہ ذمہ داری اُن کی ہے اور اُنہی کو نبھانی پڑے گی۔سیکرٹریان مال کا کام ہے کہ ہر مقامی سطح پر، ہر گھر تک پہنچنے کی کوشش کریں۔اب تو فون ہیں، دوسرے ذریعے ہیں ، سواریاں ہیں۔یہاں یورپ میں تو اور بھی زیادہ بڑے وسائل ہیں۔پاکستان میں ایسے سیکرٹریان مال بھی تھے جو دن کو اپنا کام کرتے تھے اور پھر شام کے وقت کام ختم کر کے رات کو گھروں میں پھرتے تھے۔بڑے شہر ہیں، کراچی ہے لاہور ہے سائیکل پر سوار ہیں، ایک جگہ سے دوسری جگہ جا رہے ہیں اور نصیحت کر رہے ہیں، اس طرف توجہ دلا رہے ہیں۔تو یہاں تو اب بہت ساری سہولتیں آپ کو میسر ہیں اور پھر بھی کام نہیں کرتے۔بلکہ بعض سیکرٹریانِ مال کی یہاں بھی مجھے شکایات پہنچی ہیں کہ اُن کے اپنے چندے معیاری نہیں ہیں۔اگر اپنے چندے معیاری نہیں ہوں گے تو دوسروں کو کیا تلقین کر سکتے ہیں۔اور پیار اور نرمی سے یہ کام کرنے والا ہے۔مالی قربانی کی اہمیت واضح کریں۔بعض سخت ہو جاتے ہیں۔ایک دفعہ کوئی انکار کرتا ہے تو دوسری دفعہ جا ئیں ، تیسری دفعہ جائیں، چوتھی دفعہ جائیں لیکن ماتھے پر