خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 462
خطبات مسرور جلد 11 462 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 16 اگست 2013ء قربانی کے بدلے میں کئی گنا بڑھا کر لوٹاتی ہے۔اور لوگ ایسے متعدد واقعات مجھے لکھتے ہیں کہ ہم نے خدا تعالیٰ کی راہ میں چندہ دیا اور اللہ تعالیٰ نے ہمیں کئی گنا بڑھا کر لوٹا دیا۔اس بارے میں کئی دفعہ میں مختلف واقعات بھی بیان کر چکا ہوں۔اللہ تعالیٰ تو غنی ہے اور بے نیاز ہے، اُس کو ہمارے پیسے کی ضرورت نہیں۔اصل میں تو ہمیں پاک کرنے کے لئے ہمارے اطاعت کے معیار دیکھنے کے لئے ہمیں تقویٰ کی راہوں کی تلاش کرتا دیکھنے کے لئے ، ہمارے مال کی قربانی کے دعوی کے معیار کو دیکھنے کے لئے خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اُس کی راہ میں خرچ کرو، اُس کے دین کے پھیلانے کے لئے ، بڑھانے کے لئے خرچ کرو۔پس ہر احمدی کو اس روح کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ہم چندہ کیوں دیتے ہیں؟ اگر کسی سیکرٹری مال یا صدر جماعت کو خوش کرنے کے لئے ، یا اُس سے جان چھڑانے کے لئے چندہ دیتے ہیں تو ایسے چندے کا کوئی فائدہ نہیں۔بہتر ہے نہ دیا کریں۔اگر دوسرے کے مقابل پر آ کر صرف مقابلے کی غرض سے بڑھ کر چندہ دیتے ہیں تو اس کا بھی کوئی فائدہ نہیں۔غرض کہ کوئی بھی ایسی وجہ جو خدا تعالیٰ کی رضا کے حصول کے علاوہ چندہ دینے کی ہو، وہ خدا تعالیٰ کے ہاں رڈ ہوسکتی ہے۔پس چندہ دینے والے یہ سوچیں کہ خدا تعالیٰ کا اُن پر احسان ہے کہ اُن کو چندہ دینے کی توفیق دے رہا ہے، نہ کہ یہ احسان کسی شخص پر، اللہ تعالیٰ پر یا اللہ تعالیٰ کی جماعت پر ہے کہ وہ اُسے چندہ دے رہے ہیں۔پس ہر چندہ دینے والے کو یہ سوچ رکھنی چاہئے کہ وہ چندے دے کر خدا تعالیٰ کے فضلوں کے وارث بننے کی کوشش کر رہا ہے۔الہی جماعتوں کے لئے مالی قربانی انتہائی اہم چیز ہے۔اس لئے میں نے تمام جماعتوں کو یہ کہا ہے کہ نومبائعین اور بچوں کو وقف جدید اور تحریک جدید میں زیادہ سے زیادہ شامل کرنے کی کوشش کریں، چاہے ایک پیسہ دے کر کوئی شامل ہوتا ہو، تاکہ انہیں عادت پڑے اور اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو سمیٹنے والے ہوں۔چندوں کی اہمیت کے بارے میں ایک جگہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : دنیا میں انسان مال سے بہت زیادہ محبت کرتا ہے، اسی واسطے علم تعبیر الرؤیا میں لکھا ہے کہ اگر کوئی شخص دیکھے کہ اُس نے جگر نکال کر کسی کو دیا ہے تو اس سے مراد مال ہے۔یہی وجہ ہے کہ حقیقی انتقاء اور ایمان کے حصول کے لئے فرما یا : لَن تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مَا تُحِبُّونَ۔( آل عمران : 93) حقیقی نیکی کو ہرگز نہ پاؤ گے جب تک تم عزیز ترین چیز نہ خرچ کرو گے کیونکہ مخلوق الہی کے ساتھ ہمدردی اور سلوک کا ایک بڑا حصہ مال کے خرچ کرنے کی ضرورت بتلاتا ہے اور ابنائے جنس اور مخلوق خدا کی ہمدردی ایک ایسی شے ہے جو ایمان کا دوسرا جزو ہے جس کے بڑوں ایمان کامل اور راسخ نہیں ہوتا۔جبتک انسان ایثار نہ