خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 464
خطبات مسرور جلد 11 464 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 16 اگست 2013ء بل نہیں آنا چاہئے۔دینے والے بھی یہ یا درکھیں کہ کسی شخص کو یہ زعم نہیں ہونا چاہئے کہ شاید اس کے چندے سے نظامِ جماعت چل رہا ہے اور اس لئے سیکرٹری مال بار بار اُس کے پاس آتا ہے۔یہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ کبھی مالی تنگی نہیں آئے گی اور کام چلتے رہیں گے۔انشاء اللہ تعالیٰ۔ہاں آپ کو فکر تھی تو اس بات کی تھی کہ مال کا خرچ جو ہے وہ صحیح رنگ میں ہوتا ہے کہ نہیں؟ (ماخوذ از رساله الوصیت روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 319) اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہ کوشش کی جاتی ہے کہ خرچ حتی الوسع صحیح طریقے پر ہو۔بعض جگہ خرچ میں لا پرواہی ہو تو تو جہ بھی دلائی جاتی ہے۔جماعت میں آڈٹ کا نظام بھی اس لئے قائم ہے۔اور پھر یہ امیر جماعت کی بھی ذمہ داری ہے کہ اخراجات پر گہری نظر رکھے۔یہ نہیں کہ جو بل آیا اُس کو ضرور پاس کر دینا ہے۔آڈٹ کے نظام کو فعال کرے اور اس طرح فعال کرے کہ آڈیٹر کو آزادی ہو کہ جس طرح وہ کام کرنا چاہتا ہے اپنی مرضی سے کرے۔اُس کو پورے اختیار دیئے جائیں۔خرچ کے بارے میں میں بتا دوں کہ ایم ٹی اے کا ایک بہت بڑا خرچ ہے اور ایم ٹی اے کے لئے مذتربیت کے لحاظ سے علیحدہ تحریک بھی کی جاتی ہے۔گو کہ اب اخراجات اتنے زیادہ ہو چکے ہیں کہ صرف اتنی رقم سے تو ایم ٹی اے کے خرچ نہیں چل سکتے۔تو جو جماعت کا باقی مجموعی بجٹ ہے اُس میں سے بھی رقم خرچ کی جاتی ہے کیونکہ ساری دنیا میں ایم ٹی اے کے لئے ہمارے چار پانچ سیٹلائٹ کام کر رہے ہیں۔تو اس طرف بھی توجہ کی ضرورت ہے۔لوگوں کو توجہ کرنی چاہئے۔اگر جلسے کے دوسرے دن کی تقریر کو غور سے سنیں ، جو یہاں یو کے (UK) میں میں کرتا ہوں تو ہر ایک کو پتہ چل جائے گا کہ اللہ تعالیٰ نے جماعت کے پیسے میں کتنی برکت ڈالی ہوئی ہے اور کس طرح کام کی وسعت ہو رہی ہے اور کس طرح کام کا پھیلاؤ ہو چکا ہے اور اللہ تعالیٰ ہر سال اس پیسے کو کتنے پھل لگا رہا ہے اور کس طرح لگا رہا ہے؟ اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہ سب اخراجات احباب جماعت کی مالی قربانیوں سے ہوتے ہیں۔اس کے علاوہ بعض انتظامی باتوں کی طرف بھی میں آج توجہ دلانا چاہتا ہوں۔جیسا کہ میں نے ذکر کیا ہے کہ خلیفہ وقت کے خطبات کا سننا بھی بہت ضروری ہے۔یا دوسری باتیں جو مختلف وقتوں میں کی جاتی ہیں اُن پر غور کرنا اور نوٹ کرنا بڑا ضروری ہے۔عہدیدار جہاں احباب جماعت کو یہ توجہ دلائیں وہاں عہدیداران خود بھی اس طرف توجہ دیں۔امیر جماعت کا خاص طور پر یہ کام ہے کہ خطبات میں اگر کوئی