خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 438 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 438

خطبات مسرور جلد 11 438 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 02 اگست 2013ء کہ ایک لوہے کا آٹھ نو انچ کا ٹین کا پائپ ہوتا ہے، اُس کو بیگ کے درمیان میں رکھتے ہیں اور اس پائپ کے اندر کم درجے کا چاول بھرتے ہیں اور اس کے ارد گر د اعلی کوالٹی کا چاول بھیجتے ہیں۔اور باہر سے جب وہ دیکھتے ہیں تو اعلیٰ کوالٹی ہوتی ہے، باسمتی چاول ہوتا ہے، اور کسی کو پتہ نہیں لگتا۔جب پائپ اُس کے بعد نکال لیتے ہیں وہ مکس (Mix) ہو جاتا ہے، یہ بھی نہیں خیال ہوتا کہ اندر کوئی چیز پڑی ہے۔چاول بہر حال چاول ہے۔تو کاروباروں کی یہ حالت ہے۔اسی وجہ سے ایک عرصہ پہلے سے ہندوستانی مارکیٹ نے چاول کی مارکیٹ پر قبضہ کر لیا ہے، حالانکہ ہندوستان کا چاول پاکستان سے کم کوالٹی کا ہے۔اور اب شاید کچھ ایکسپورٹر، کیونکہ احمدی بھی ایکسپورٹ کرتے ہیں، خود بہتر کوالٹی کا لے کر آتے ہوں تو لاتے ہوں نہیں تو اس چور بازاری کی وجہ سے باہر کی مارکیٹ نے پاکستانی ایکسپورٹر سے چاول لینا ہی بند کر دیا ہے۔ان کو اب پتہ لگ گیا ہے کہ اس طرح یہ دھوکہ دہی ہوتی ہے۔اس لئے اب ہندوستانی ایکسپورٹر جو ہے وہی چاول خریدتا ہے، اُس کی گریڈ نگ (grading) کرتا ہے اور پھر آگے بھیجتا ہے۔اور یہ سوچتے ہی نہیں کہ کاروبار میں اس سے برکت بھی نہیں رہتی اور کاروبار بھی ختم ہو گیا۔ایک حدیث میں آتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر خرید و فروخت کرنے والے سچ بولیں اور مال میں اگر کوئی عیب یا نقص ہے اُسے بیان کر دیں تو اللہ تعالیٰ اُن کے سودے میں برکت دے گا۔اور اگر وہ دونوں جھوٹ سے کام لیں ، خرید نے والا بھی اور بیچنے والا بھی اور کسی عیب کو چھپائیں گے یا ہیرا پھیری سے کام لیں گے تو اس سودے میں سے برکت نکل جائے گی۔(صحیح البخاری کتاب البیوع باب اذا بين البيعان ولم يكتما و نصحا حدیث 2079) پس اگر برکت حاصل کرنی ہے تو پھر امانت اور دیانت کے تقاضے پورے کرنے ہوں گے۔اور یہ تقاضے پورے کرتے ہوئے کاروبار کرنا یہی ایک اچھے مسلمان کا شیوہ ہونا چاہئے۔ایک حدیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم کسی کو دینے کے لئے کچھ تو لو تو جھکتا ہوا تو لو۔یعنی کہ اگر کچھ زیادہ بھی چلا جائے تو کوئی حرج نہیں ہے۔(سنن ابن ماجه كتاب التجارات باب الرجحان في الوزن حدیث (2222) پس یہ تجارتی امانت کا معیار ہے جو ایک مسلمان کا ہونا چاہئے۔اگر تا جرامانت دار ہو، صحیح طرح کاروبار کرنے والا ہو تو پھر جو اُس کا مقام ہے وہ بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد سے پتہ چلتا ہے کہ کتنا بڑا مقام ہے۔آپ نے فرمایا کہ سچا اور دیانتدار تا جر نبیوں ،صدیقوں