خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 437
خطبات مسرور جلد 11 437 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 02 اگست 2013ء اور امانت اور دیانت کا یہ حال تھا کہ ایک شخص اپنے گھوڑے کو بیچنے کے لئے بازار میں لا یا اور کہا کہ اس کی قیمت پانچ سو درہم ہے۔اور ایک دوسرے صحابی نے اُسے دیکھا اور پسند کیا اور کہا کہ میں اُسے خریدوں گا، یہ مجھے پسند ہے لیکن اس کی قیمت پانچ سو درہم نہیں ہے۔وہ آدمی سوچتا ہے کہ شاید کم بتائے بلکہ بالکل الٹ فرما یا کہ یہ ایسا اعلی گھوڑا ہے کہ اس کی قیمت دو ہزار درہم ہونی چاہئے۔اس لئے میرے سے دو ہزار در ہم لے لو۔اب بیچنے والے اور خریدنے والے کی بحث چل رہی ہے۔بیچنے والا پانچ سو درہم سے اوپر نہیں جارہا اور خرید نے والا دو ہزار درہم سے نیچے نہیں آ رہا۔(ماخوذازالمعجم الكبير للطبراني جلد دوم صفحه 334 - 335 ابراهیم بن جرير عن ابيه حدیث 2395 مطبوعه دار احیاء التراث العربی بیروت) تو یہ معیار تھا جو مسلمانوں کا تھا، جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں اور آپ کے صحابہ کی صحبت میں رہنے والوں کا تھا۔حضرت مصلح موعودؓ نے اپنا بھی ایک واقعہ لکھا ہے کہ جب وہ 19۔20 سال کے تھے تو سیر کے لئے کشمیر گئے۔وہاں ایک قسم کے اونی قالین بنائے جاتے ہیں جو خاص طور پر بڑے مشہور ہیں۔وہ انہیں پسند آئے۔کچھ عرصہ انہوں نے ٹھہر نا تھا، سیر کرنی تھی۔اس لئے سیر کے لئے چلے گئے۔انہوں نے جس شہر میں قالین دیکھے تھے وہاں قالین بنانے والے ایک شخص نے کہا کہ میں بہت اعلیٰ بنا تا ہوں۔انہوں نے کہا ٹھیک ہے مجھے تحفہ لے جانے کے لئے تین چار ایسے قالین بنادو اور اُس کا سائز بتایا۔کہتے ہیں جب میں واپس آیا تو جو سائز بتائے تھے اُن سے ہر قالین ہر طرف سے، چوڑائی میں بھی، لمبائی میں بھی چھوٹا تھا اور کافی فرق تھا۔چھ چھ انچ ، فٹ فٹ چھوٹا تھا۔تو انہوں نے کہا کہ تمہیں میں نے یہ سائز بتایا تھا، یہ سامنے گواہ ہیں، ان کے سامنے بتایا تھا، اُس کے باوجود تم نے اس کے مطابق نہیں بنایا اور قیمت تم اتنی مانگ رہے ہو۔تو بجائے اس کے کہ شرمندہ ہوتا، یہ کہتا کہ ٹھیک ہے قیمت کم کردیں۔کہنے لگا میں مسلمان ہوں اور بار بار یہی رٹ لگائے جائے کہ میں مسلمان ہوں اور آپ مجھے کہہ رہے ہیں کہ تم نے ایسا بنایا ہے اور ویسا بنایا ہے۔(ماخوذ از تقریر سیالکوٹ انوار العلوم جلد 5 صفحہ 108-109) تو اب جب بھی غلط کام ہو، مسلمان کہہ کر اُس کو جائز کرنا، یہ عام ہو گیا ہے۔اور پھر یہ پرانی بات نہیں ہے۔مجھے بھی ایک شخص جو چاول کے کاروبار میں تھے، بتانے لگے کہ ہم پاکستانی اچھا باسمتی چاول جب باہر بھیجتے ہیں تو اُس میں دوسرا کم درجے کا لمبا چاول کس طرح شامل کرتے ہیں اور وہ طریق کار یہ ہے