خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 401 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 401

خطبات مسرور جلد 11 401 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 12 جولائی 2013ء کے اس قابل ہو جاؤ کہ خدمت اسلام کر سکو لیکن تم کہتے ہو کہ مدرسہ احمدیہ میں نہیں پڑھنا چاہتا۔یہ کہہ کر وہ دلگیر ہو کر کھڑے ہو گئے اور کمرے میں جا کر نماز پڑھنا شروع کر دی۔کہتے ہیں کہ جس جذبے سے ان کے والد صاحب نے بات کی اور جو کیفیت اُس وقت اُن کی ہوئی ، اُس کا میرے دل پر خاص اثر ہوا۔رات کو نیند نہیں آئی۔والد صاحب کے لئے دعائیں کرتا رہا۔صبح میں نے عہد کیا کہ والد صاحب کی خواہش کے مطابق مدرسہ احمدیہ میں تعلیم جاری رکھوں گا اور زندگی بھی وقف کروں گا۔چنانچہ حضرت مصلح موعود نے جب وقف زندگی کی تحریک فرمائی تو میں نے حضور کی خدمت میں ایک خط لکھ کر درخواست کی کہ حضور از راہ کرم میرا وقف منظور فرمائیں۔تو اس طرح انہوں نے اپنے والد کی خواہش بھی پوری کی۔دین کی خدمت کا جذ بہ بھی پیدا ہوا۔ایک دفعہ حضرت خلیفہ اسیح الثالث رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کچھ مبلغین کے بارے میں فرمایا تھا کہ ہمارے مبلغین ( اُن میں سے ایک نام ان کا بھی تھا۔مسجد میں مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے ) جو یہاں اس وقت ربوہ کی گلیوں میں پھر رہے ہیں ان کو کوئی پوچھتا نہیں۔کوئی سمجھتا نہیں لیکن یہی لوگ ہیں جو جن ممالک میں مبلغ ہیں، وہاں جاتے ہیں تو وہاں کے صدران اور وزراء بھی ان کو ملتے ہیں اور ان کو جو بڑے بڑے فنکشن ہوتے ہیں اُن میں بلایا جاتا ہے، بڑی عزت اور احترام دیا جاتا ہے۔جب واپس آگئے تو کینیا میں اپنے ایک احمدی دوست کو ایک خط لکھتے ہوئے یہ لکھتے ہیں کہ میں مغربی افریقہ میں قریباً انتیس سال رہا ہوں۔میں ہمیشہ اپنے آپ کو خدمت کے نا اہل اور کوتاہ پاتا تھا۔دو بجے کے قریب میری آنکھ کھلتی تھی اور اپنی کمزوریوں اور نا اہلیوں کو سوچ کر بے گل ہوتا تھا اور اللہ تعالیٰ کو مدد کے لئے پکارتا تھا اور اگلے دن کا پروگرام بنایا کرتا تھا۔پس سارے مبلغین کو اس نہج پر اپنی سوچوں کو لانا چاہئے۔خدمت کا یہ جذبہ ہو، درد ہو، اللہ تعالیٰ سے دعا ہو۔اللہ تعالیٰ سب مبلغین کو وفا کے ساتھ اپنے وقف کو پورا کرنے کی اور خدمات ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور شر ما صاحب کے بھی درجات بلند فرمائے۔پھر اسی طرح قادیان میں جب پارٹیشن کے وقت فسادات ہوئے ہیں تو ان کے والد اور بھائی وہاں تھے۔انہوں نے اپنے بھائی کو لکھا اور والد کو لکھا کہ آپ لوگ خوش قسمت ہیں کہ یہاں ہیں۔میرا بھی دل چاہتا ہے۔حالات ایسے ہیں کہ زندگی کا پتہ کوئی نہیں کہ کون زندہ واپس آتا ہے یا نہیں لیکن دین کی خاطر شہید ہونا بھی ایک اعزاز ہے۔کاش کہ میں وہاں ہوتا تو یہ شہادت مجھے ملتی لیکن آپ لوگ وہاں ہیں تو یہ نہ ہو کہ خوفزدہ ہو جائیں کیونکہ زندگی آنی جانی چیز ہے۔اللہ تعالیٰ آپ کو توفیق دے کہ مرکز کی حفاظت کر سکیں۔