خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 400
خطبات مسرور جلد 11 400 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 12 جولائی 2013ء شر ما صاحب کے بیٹے تھے، شیخ مظفر اور شیخ مبارک، ان کو پاکستان شکار پور میں شہادت کا اعزاز بھی ملا۔شر ما صاحب نے بنیادی تعلیم قادیان سے حاصل کی۔مولوی فاضل اور میٹرک کے بعد جامعہ احمدیہ میں داخل ہوئے۔اس دوران آپ کو دفتر الفضل میں خدمت کی توفیق ملی۔1939ء کی خلافت جو بلی میں حضرت مصلح موعود نے عبدالکریم شرما صاحب کو اُن نوجوانوں میں منتخب کیا جنہیں لوائے احمدیت کی پاسبانی کا شرف حاصل ہوا۔26 سال کی عمر میں آپ نے زندگی وقف کی تھی۔شروع میں کچھ سال تین چار سال برٹش آرمی میں انہوں نے سروس کی۔پھر دوسری جنگ عظیم کے فوراً بعد حضرت مصلح موعود کے ارشاد پر آپ فوراً قادیان آگئے اور افریقہ کے لئے تیاری شروع کی۔جنوری 1948ء کو آپ پانچ مبلغین کے قافلہ میں ایسٹ افریقہ کے لئے روانہ ہوئے اور مجموعی طور پر 29 سال وہاں خدمت دین میں مشغول رہے۔1961ء میں جب ایسٹ افریقہ تین ممالک میں منقسم ہوا تو آپ یوگنڈا کے امیر اور مشنری انچارج مقرر ہوئے۔اسی طرح آپ کو دو بار امیر و مشنری انچارج کینیا کی حیثیت سے بھی خدمت کی توفیق ملی۔1978 ء سے آپ یو کے میں ہی تھے۔اس دوران دس سال آپ کو نیشنل مجلس عاملہ میں بطور سیکرٹری تبلیغ اور سیکرٹری تربیت اور سیکرٹری رشتہ ناطہ خدمت کی توفیق ملی۔صد سالہ جوبلی کے موقع پر برطانیہ کی جو بلی پلاننگ کمیٹی کے ممبر رہے۔مجلس انتخاب خلافت کے بھی ممبر تھے۔اپنی ایک خود نوشت میں یہ ایسا واقعہ لکھتے ہیں جو ان کے والد کے اخلاص اور ان کی طرف سے والد کے جذبات کا احترام بھی اس میں پایا جاتا ہے۔کہتے ہیں میں مدرسہ احمدیہ کی چوتھی یا پانچویں جماعت میں پڑھتا تھا کہ بعض وجوہ کی بنا پر میرا دل مدرسہ سے اُچاٹ ہو گیا۔میں چاہتا تھا کہ مدرسہ چھوڑ کر ہائی سکول میں تعلیم حاصل کروں۔اُنہی دنوں میرے دو کلاس فیلو جو حضرت مولانا محمد ابراہیم بقاپوری صاحب کے فرزند تھے، مدرسہ احمدیہ کو چھوڑ کر ہائی سکول چلے گئے۔اس وجہ سے میں بھی پر شوق ہو گیا۔میں نے ایک دو مرتبہ اس خواہش کا اظہار حضرت والد صاحب سے کیا لیکن انہوں نے توجہ نہ دی۔ایک دن ہم صبح صحن میں چولہے کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔میں نے اُن سے بہت اصرار کیا اور کہا۔”آپ نے دوسرے بھائیوں کو تو ہائی سکول میں داخل کروایا ہے اور مجھے کیوں مدرسہ احمدیہ میں پڑھاتے ہیں؟“ والد صاحب نے فرمایا دیکھو! میں ہندؤوں سے مسلمان ہوا تھا اور یہ اللہ تعالیٰ کا فضل تھا کہ اُس نے اسلام کی نعمت سے مجھے نوازا۔لیکن میں افسوس کرتا ہوں کہ میں اسلام کی کوئی خدمت نہ کر سکا۔میرے دل میں خواہش ہے کہ میرا بیٹا خدمت کرے۔اس نیت سے میں نے تمہیں مدرسہ احمدیہ میں داخل کروا یا تھا کہ دینی علوم حاصل کر